5 ستمبر 2011 - 19:30

عراق ميں بليک واٹر سميت امريکا کي متعدد سيکورٹي ايجنسيوں کي غير قانوني سرگرمياں جاري ہيں-

ابنا: اسي کے ساتھ امريکا عراق ميں نجي سيکورٹي ايجنسيوں کے کارکنوں کي تعداد بڑھانا چاہتا ہے جس کے لئے تين ارب ڈالر کا بجٹ مد نظر رکھا گيا ہے - عراق ميں امريکہ کي نجي کمپنيوں کي سرگرمياں گذشتہ آٹھ سال سے جاري ہيں- ان کمپنيوں کي سرگرمياں ٹھيک اس وقت شروع ہوئيں جب امريکہ نے عراق ميں عام تباہي پھيلانے والے ہتھياروں کو تباہ کرنے اور عراقي عوام کو عراق کے معدوم ڈکٹيٹر صدام کے شر سے نجات دلانے کے بہانے سرزمين عراق پر حملہ کرکے اس پر غاصبانہ قبضہ کيا- ليکن عراق ميں امريکا کي نجي سيکورٹي کمپنيوں کے مقاصد واضح ہوجانے کے بعد عراق ميں بعض سيکورٹي کمپنيوں منجملہ بليک واٹر کي سرگرميوں پر پابندي عائد کردي گئي مگر اس کے باوجود بليک واٹر کمپني عراق ميں موجود ديگر امريکي کمپنيوں کي آڑ ميں اپني سرگرمياں جاري رکھے ہوئے ہے-

ويکي ليکس نے ابھي حال ہي ميں انکشاف کيا ہے کہ بليک واٹر کمپني کے ملازمين ٹرپيل کانوني اور ڈاينکورپ کمپنيوں کي آڑ ميں جن کي ذمہ داري بغداد ميں امريکي سفارتخانے کي حفاظت کرنا ہے، اپني سرگرمياں انجام دے رہے ہيں - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ستمبر دو ہزار سات ميں بغداد ميں عراقي شہريوں پر بليک واٹر کے افراد کي اندھا دھند فائرنگ کے واقعات کے بعد عراق ميں اس کمپني کي سرگرميوں پر پابندي عائد کردي گئي ہے -

گذشتہ آٹھ سال ميں امريکہ کي نجي سيکورٹي کمپنيوں نے اپني سرگرميوں کے عوض جو منافع کمائےہيں وہ ان کے لئے اس قدر جاذبيت رکھتے ہيں کہ عراق سے انہيں نکال ديئے جانے کے بعد بھي وہ کسي نہ کسي طرح عراق ميں رہنے کا راستہ تلاش کرتي رہتي ہيں - دوسري طرف واشنگٹن کے حکام کي بھي خواہش ہے کہ امريکا کي پرائيويٹ سيکورٹي کمپنياں عراق ميں اپني سرگرمياں جاري رکھيں کيونکہ وہائٹ ہاؤس کے حکام کے خيال ميں امريکا کي پرائيويٹ سيکورٹي کمپنياں ايک طرح سے عراق ميں امريکا کي غير رسمي فوج کا درجہ رکھتي ہيں - اسي امر کے پيش نظر امريکا چاہتا ہے کہ عراق ميں پرائيويٹ سيکورٹي کمپنيوں کے ملازمين کي تعداد بڑھادي جائے اگرچہ انہيں عراق بھيجنے کا خرچ باقاعدہ فوجي بھيجنے کے اخراجات سے دس گنا زيادہ ہوتا ہے - خاص طور پر اس لئے بھي کہ واشنگٹن - بغداد سيکورٹي معاہدے کے مطابق رواں سال کے اختتام تک عراق سے تمام امريکي فوجيوں کو نکل جانا ہے - امريکا نے ابھي کچھ دنوں قبل ہي اعلان کيا ہے کہ وہ عراق ميں رواں سال کے اختتام کے بعد پرائيويٹ سيکورٹي کمپنيوں کے ملازمين کي تعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے- اس کامطلب يہ ہے کہ عراق سے امريکي فوج کے نکل جانے کے بعد امريکا کي پرائيويٹ سيکورٹي کمپنيوں کے اہلکار عراق ميں بھرپور طريقے سے موجود رہيں گے تاکہ پل پل کي اطلاعات اور حالات کي خبر امريکي حکام کو ملتي رہے-

ان حقائق کے پيش نظر يہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ بليک واٹر نے اپنا نام بدل کر زي سروس کيوں رکھ ديا ہے ؟ اور وہ کيوں عراق ميں موجود رہنا چاہتي ہے ؟ اس سلسلے ميں امريکي نائب وزير خارجہ پيٹريک کنيڈي نے بھي بتايا ہے کہ پانچ ہزار ايک سو پرائيويٹ سيکورٹي اہلکاروں کو عراق ميں تعينات کرنے کے لئے تين ارب ڈالر کا بجٹ مخصوص کيا جارہا ہے

.............

/169