ابنا: العالم کي رپورٹ کے مطابق يمن کے انقلابي نوجوانوں کي تنظيم نے جو مظاہروں کا اہتمام کرتي ہے پورے ملک کے عوام سے کہا تھا کہ وہ اتوار کو يمني ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح کي حکومت کي سرنگوني کے لئے بھرپور مظاہرے کريں - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ يمن کي سيکورٹي فورس کے اہلکاروں کي ايک بڑي تعداد ان مظاہروں کو ناکام بنانے اور مظاہرين کو کچلنے کے لئے ملک کے مختلف شہروں منجملہ صنعا اور تعز ميں تعينات کردي گئي تھي -
رپورٹ کے مطابق صدارتي گارڈ کے اہلکاروں نے صنعا ميں داخل ہونے کے تمام راستوں کو بند کرديا اور حتي علاج کے لئے دوسرے علاقوں سے آنے والے بيمار افراد کو بھي شہر ميں داخل ہونے کي اجازت نہيں دي - دوسري طرف يمن کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے خليج فارس تعاون کونسل کے امن فارمولے کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسي صورت ميں اس منصوبے کو قبول کريں گے جب ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اقتدار سے کنارہ کش ہوجائے اور اس کے اور اس کے اہل خانہ پر مقدمے کو روکنے کے لئے کوئي شرط نہيں لگائي جائےگي -
يمني پارليمنٹ کے اسپيکر محمد باسندوہ نے کہاکہ عبداللہ صالح اور اس کے اہل خاندان پر يمني عوام پر مظالم ڈھانے کے جرم ميں مقدمہ ہر حال ميں چلايا جائے گا - واضح رہے کہ يمني عوام گذشتہ جنوري کے مہينے سے عبداللہ صالح کي تينتيس سالہ آمرانہ حکومت کے خلاف اپني تحريک جاري رکھے ہوئے ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ عبداللہ صالح کي حکومت کي برطرفي تک وہ اپنے احتجاجي مظاہرے جاري رکھيں گے- امريکا اور سعودي عرب کي مداخلت کي وجہ سے يمني عوام کي تحريک سست رفتاري سے آگے بڑھ رہي ہے.............
/169