3 ستمبر 2011 - 19:30

سعودي عرب علاقے ميں امريکہ اور صہیوني ریاست کي پاليسيوں کو عملي جامہ پہناتے ہوئے شام ميں بد امني کو ہوا دے رہا ہےـ

ابنا: چنانچہ شام ميں گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں نے اعتراف کيا ہے کہ وہ سعودي عرب کے ايجنٹ ہيں ـحمات شہر ميں گرفتار کئے جانے والے ايک دہشت گرد نے اعتراف کيا ہے کہ شام ميں حاليہ مہينوں کي بد امني ميں جند الشام ناہي وہابي تنظيم اور سعودي عرب کے انتہا پسند دہشتگرد ملوث رہے ہيں ـ

شام کے ٹيلي ويزن سے نشر ہونے والے اس اقباليہ بيان ميں اس شخص نے بتايا کہ يہ افراد شہر ميں موجود تھے ليکن ہم انہيں نہيں پہچانتے تھے ـ اس شخص نے اعتراف کيا کہ ان افراد کے پاس جديد اسلحے تھے اور بعد ميں ہميں معلوم ہوا کہ ان کا تعلق جند الشام سے ہے اور يہ لوگ پوليس اور سيکورٹي فورس کي چيک پوسٹوں پر حملے کے لئے آ‏ئےہيں ـ

جند الشام ايک سرگرم وہابي تنظيم ہے جس نے خاص طور پر جنوبي لبنان ميں واقع فلسطيني پناہ گزيں کيمپوں ميں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہيں ـ ان افراد نے سن دو ہزار نو ميں دمشق ميں ايک سيکورٹي مرکز پر حملہ کرکے سترہ افراد کا قتل عام کيا تھاـگرفتار کئے گئے دہشت گرد نے يہ اعتراف بھي کيا کہ وہ جھوٹي خبريں ميڈيا کو ديتا تھا اور عوام کے قتل کے لئے شام کي سيکورٹي فورسز پر الزام لگاتا تھاـ اس کے مطابق کچھ مخصوص افراد کو يہ ذمہ داري سونپي گئي تھي کہ الجزيرہ اور العربيہ جيسے ٹي وي چينلوں کے ساتھ انٹرويو ميں شام کے اندر ہونے والے واقعات کے لئے شام کي فوج کو ذمہ دار قرار ديں ـ تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام چونکہ لبنان کي مزاحمتي تنطيم حزب اللہ کا حامي ہے اور اس کا موقف اسرائيل کے خلاف ہے اس وجہ سے امريکہ اس سے سخت برہم ہے وہ سعودي عرب کے تعاون سے تربيت يافتہ دہشت گردوں کے ذريعے شام ميں تخريبي کارروائياں کروار رہا ہےــ

 ............

/169