3 ستمبر 2011 - 19:30

عالمی اسلامی بیداری کانفرنس کانفرنس میں جو عنقریب مصر لیبیا تیونس بحرین اور خطے کے دیگر عرب اور اسلامی ملکوں کے نمائندوں کی شرکت سے ایران میں منعقد ہوگی، لبنان کے معروف لیڈر امام موسی صدر کی گمشدگی پر اسرار گمشدگی کا معاملہ بھی زیر غور آۓگا ۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے نائب سربراہ اور اسلامی بیداری کمیشن کے چیر مین سید شہاب الدین صدر نے یہ بات اپں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہی ۔انہوں نے کہا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ امام موسی صدر حیات ہیں اور لیبیا میں ہی کسی خفیہ جیل میں قید ہیں۔ادہر اطلاعات کے مطابق لبنان کا ایک وفد لیبیا کی انقلابی کونسل کے ساتھ مل کر امام موسی صدر کا پتہ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لبنان کا ایک وفد لیبیا کے انقلابیوں کی ہم آہنگي کے ساتھ گزشتہ تیس برسوں کی لیبیا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں اور دستاویزات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ امام موسی صدر کے بارے میں پتہ لگایا جا سکے۔ اس رپورٹ کے مطابق لیبیا کی عبوری کونسل انقلابیوں کے ساتھ مل کر امام موسی صدر کو تلاش کرنے کے لیے ملک کی جیلوں کی تلاشی لے رہی ہے۔ اسی طرح لیبیا کے انقلابیوں کے ساتھ مل جانے والے انٹیلی جنس کے افراد ان مقامات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ جن کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ امام موسی صدر کو وہاں دفن کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امام موسی صدر انیس سو اٹھتر میں لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کی دعوت پر سرکاری دوررے پر لیبیا گئے تھے لیکن چھ روز کے بعد وہاں لاپتہ ہو گئے تھے۔ قذافی کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ امام موسی صدر لیبیا سے اٹلی چلے گئے ہیں لیکن اٹلی کی حکومت نے تحقیقات کرنے کے بعد قذافی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملنے والے ثبوتوں اور دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام موسی صدر لیبیا سے اور کہیں نہیں گئے اور وہیں پر لاپتہ ہوئے ہیں اور ان کی اس پر اسرار گمشدگی کے پیچھے قذافی کا ہاتھ ہے۔کچھ عرصہ قبل لبنان میں ایک عدالتی تحقیقات کُے دوران بات سامنے آئی ہے کہ امام موسی صدرنے 33 برس قبل عرب ملکوں کے اپنے دورے کے سلسلے میں لیبیا جانے کا بھی پروگرام بنایا چنانچہ امام موسی صدر25 اگست 1978کوایک تین رکنی وفد کے ہمراہ لیبیاء پہنچے ان کا یہ دورہ لیبیاء کی سرکاری دعوت پربھی انجام پایا تھا اوراس دورےمیں لیبیا کے رہنمامعمرقذافی سے ان کی ملاقات طے تھی لیکن اس کے باوجود لیبیا کے ذرائع ابلاغ اوراخبارات نے ان کے دورہ لیبیاء کی خبروں کو نا معلوم وجوہات کی بنا پر سنسرکیا۔اس رپورٹ کے مطابق معمرقذافی سے امام موسی صدرکی ملاقات 31 اگست 1978 کو انجام پانی تھی۔ امام موسی صدرکوآخری بار31 اگست کوطرابلس میں الشاطی ہوٹل کے باہردن میں ایک بجے ان کے دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت دیکھا گیا جب وہ سرکاری پروٹوکول والی گاڑی میں معمرقذافی سے ملاقات کے لئے جانے کی غرض سے بیٹھ رہے تھے۔تاہم قذافی نے دعوی کیا کہ امام موسی صدر سے ان کی یہ ملاقات نہيں ہوپائی، قذافی کے بقول امام موسی صدرنے خود ہی ملاقات کے بغیراچانک لیبیا سے واپس جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ تاہم لبنانی حکام نے عرب اورغیرعرب شخصیات سے جومعلومات اوراطلاعات حاصل کی ہيں ان کی بنیاد پر یہ ملاقات انجام پائی تھی اوراس ملاقات میں کچھ اختلافی مسائل بھی سامنے آئے تھے۔ امام موسی صدر کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے بعد منظم طریقے سے یہ افواہيں پھیلائی گئيں کہ وہ شہید کردئے گئے۔ خود کرنل معمرقذافی نے ان کے مبینہ قتل کی ذمہ داری فلسطینیوں پرعائدکردی وہ اپنے اس دعوے کو ثابت نہ کرسکے۔بہرحال امام موسی صدر کی رہائی کے لئے بننے والے عالمی محاذ کےسربراہ سید محمد حسین صدرنےکہاہےکہ امام موسی صدرکولیبیامیں دیکھےجانےپرمبنی ایک عراقی صحافی کےبیانات اوربعض دوسرے شواہد کی بنیاد پران کےزندہ ہونےکی امیدبڑھتی جارہی ہے۔کرنل معمر قذافی کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے بعد حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والے لیبیا کے ایک سفارتکار کا کہنا ہے کہ امام موسی صدرزندہ ہیں اور اور انہیں خصوصی سیکورٹی کے دستوں کی نگرانی میں ایک مخصوص مقام پر رکھا گیا ہے۔اگست 2008میں لبنان کی ایک عدالت نے معمرقذافی کو امام موسی صدرکے اغواکا ملزم قراد دے کران کے لئے موت کی سزا کا حکم سنایاتھا۔امام موسی صدرکے بھانجے مہدی فیروزان کا کہنا ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران امام موسی صدرکے بارے میں ایسی بے شمارخبريں سامنے آئی ہیں جولیبیاء کے سکیورٹی اہلکاروں ، جیل حکام اورانٹلیجنس عہدیداروں سے نقل ہوئی ہیں اوران میں سے اکثرخبروں میں یہی کہا گیا ہے کہ امام موسی صدرزندہ ہيں۔بہر حال اگر امام موسی صدر بقید حیات ہیں تو ان کی رہائی سے سامراجی دنیا میں ایک بھونچال آجائے گا اور علاقے کی اسلامی اور انقلابی تحریکوں کو ایک ایسی روح ملے گی کہ دنیا دیکھے گی۔اس وقت اسلامی دنیا اور خصوصا لبنانی عوام اپنے محبوب قائد کی سرنوشت جاننے، اور ان کی آمد کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں اور دوسری طرف لیبیا کے ڈکٹیٹر کرنل قذافی کی تلاش بھی بڑی شدت سے جاری ہی کہ جس نے 30 برس قبل امام موسی صدر کو اغوا کرکے عالم اسلام کی پشت ایک ایسا کاری وار لگایا کہ جس کے اثرات ساری اسلامی دنیا پر پڑے، یقینا اگر امام موسی صدر کو قذافی نے راستے سے نہ ہٹایا ہوتا تو غاصب اسرائیل کے ہاتھوں ملت لبنان اور فلسطینی قوم کو اتنے زیادہ مصائب جھلنے نہ پڑتے ۔اب وقت آگیا ہی کہ کرنل قذافی اپنے اس سنگین جرم کا جوابدے اور اپنے کئے کی سزا پائے۔  .............

/169