2 ستمبر 2011 - 19:30

مشرق وسطی کے امور کے ماہر زاید العیسی نے کہا ہےکہ سعودی عرب میں عوام کا ایک بڑا طبقہ غربت کا شکارہے۔

ابنا: زاید العیسی نے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ سعودی شہزادی بسما بنت سعود کے ان بیانات کی روشنی میں کہ آل سعود کی حکومت میں وسیع پیمانے پر بدعنوانیاں پائي جاتی ہیں اور اس ملک میں ایک بڑا طبقہ غربت کاشکارہے، اب کسی طرح کا شک باقی نہیں رہتا کہ سعودی عرب میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ زاید العیسی نے کہا کہ سعودی عرب کی صرف پانچ فیصد آبادی تیل کی آمدنی سے بہرہ مند ہوتی ہے اور پچانوے فیصد لوگ غربت کا شکار ہیں اوریہ ایک غیر انسانی صورتحال ہے۔ زاید العیسی نے کہا کہ سعودی عرب میں اکثریت غربت کا شکار ہے اور سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو ڈرائيونگ کی اجازت نہیں ہے اور حکومت کی نظر میں خواتین دوسرے درجے کی شہری شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کی حکومت عوام کے حقوق کو پامال کرتی ہے اور انسانی حقوق کو کوئي اہمیت نہیں دیتی۔ زاید العیسی نے کہا کہ سعودی عرب دینا کے ان کچھ ملکوں میں ہے جہاں پریس کی آزادی، مذہبی آزادی یہانتک کہ انتخابات میں شرکت کرنے کی آزادی کا بھی فقدان ہے۔ زاید العیسی نے کہا کہ آل سعود کی پالیسیوں سے جو اس نے عوام کے مقابل اختیار کررکھی ہیں یہ ملک بھی مستقبل قریب میں علاقے کے دیگر آمر ملکوں کے انجام سے دوچار ہوگا۔ ادھر بحرین میں چودہ فروری انقلاب کے اتحاد نامی دھڑے نے ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات کو بے بنیاد قراردیتےہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب سامراج اور صہیونیزم کے فائدے میں عرب ملکوں میں مداخلت کررہا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے اس انقلابی دھڑے نے ایک بیان جاری کرکے بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت نیز مشرق وسطی میں عرب قوموں کے انقلابوں کو ناکام بنانے کی آل سعود کی کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہےکہ شام میں آل سعود کی مداخلت اور شام میں بدامنی پھیلانے والوں کی حمایت جو کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے اشاروں پرجاری ہے قابل مذمت ہے۔ بحرین کے اس انقلابی دھڑے نے سعودی وزیرداخلہ کے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ ایران، سعودی عرب میں مداخلت کررہا ہے بلکہ تاکید کی ہے کہ سعودی عرب نے بحرین میں اپنے فوجی اور ایجنٹ بھیج کر جنگي جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے اور سعودی عرب دیگر عرب ملکوں میں بھی مداخلت کررہا ہے۔ چودہ فروری کے انقلاب کے اتحادی نامی بحرینی انقلابی گروہ کے بیان میں آیا ہےکہ سعودی عرب کی ظالم حکومت اسلامی بیداری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے اور عرب قوموں کے انقلابوں کو سامراج اور صہیونیزم کے حق میں ہائي جیک کرنا چاہتی ہے لیکن مصر، تیونس،یمن اوربحرین کی قومیں سعودی عرب کو تاريخی سبق سکھائيں گي۔............ /169