27 اگست 2011 - 19:30

ايک امريکي مصنف کا کہنا ہے کہ اس ملک کي معاصر تاريخ ميں تين بڑي بغاوتيں ہوئي ہيں -

ابنا: امريکي مصنف ايلن رولينڈ نے پريس ٹي وي کے ساتھ ايک انٹرويو ميں کہا کہ امريکہ کي عصري تاريخ ميں تين بڑي بغاوتيں ہوئي ہيں تاکہ اقتدار ملک کے ارباب اقتدار کے ہي ہاتھ ميں باقي رہے -

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلي بڑي بغاوت ، امريکہ کے سابق صدر جان ايف کينيڈي کا قتل ہے کيونکہ وہ ويتنام جنگ کے مخالف تھے اور سي آئي اے، پينٹاگون ، بڑي تيل کمپنيوں اور بينکوں سے اقتدار واپس حاصل کرنے کے خواہاں تھے -

اس امريکي مصنف نے گيارہ ستمبر کے واقعات کو امريکہ ميں دوسري بڑي بغاوت قرار ديا جس کے بعد اس ملک کے ارباب اقتدار نے ، دہشت گردي کے خلاف جنگ کے بہانے دنيا کے بہت سے ملکوں کو دھوکا ديا -

رولينڈ نے کہا کہ امريکہ ميں تيسري بڑي بغاوت ، سن دو ہزار آٹھ ميں فيڈرل ريزرو بينک کي جانب سے بارہ ٹريلين چھے سو ارب ڈالر ، بينکوں کو قرض ديا جانا ہے کيونکہ اس سے بري معاشي صورت حال کےباوجود بہت سے لوگوں نے خوب فائدے اٹھائے اور اس بغاوت کے اثرات ابھي تک باقي ہيں -

امريکہ کے اس مصنف نے کہا ہے کہ امريکي صدر باراک اوباما تبديلي کے اپنے نعرےکے باوجود ، امريکہ کے سابق صدور کي طرح فوجي سازو سامان بنانے والوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہيں اور اس وقت امريکي عوام ان سےسب سے زيادہ مايوس ہيں _...........

/169