21 اگست 2011 - 19:30

حضرت امام خميني رحمت اللہ عليہ نے ايران ميں اسلامي انقلاب کامياب ہونے کے بعد، رمضان المبارک کے آخري جمعے کو عالمي يوم قدس قرار ديکے بيت المقدس کي ديني اور اسلامي حيثيت اجاگر کي جس کے بعد غاصب صہیوني ریاست کے خلاف تحريکوں ميں شدت اورہماہنگي وجود ميں آئي.

ابنا: بيت المقدس تين آسماني اديان اسلام، عيسائيت اور يہوديت کا گہوارا ہے اور اسے اديان الہي کے نزديک خاص اہميت حاصل ہےـ تاريخي لحاظ سے بھي يہ دنيا کا ايک اہم ترين شہر ہے جس کي تاريخ ہزاروں سال پر مشتمل ہےـ

اس اہميت و منزلت کا حامل شہر اس وقت صہیوني ریاست کي سازشوں کي زد پر ہے اور صہیوني ریاستاپنے غير قانوني وجود کے آغاز سے اب تک بيت المقدس پر قبضہ کرکے اسے اپنا دار الحکومت بنانے کے لئے کوشاں ہےـ صہیوني ریاست نے سن انيس سو اڑتاليس ميں مغربي بيت المقدس اور انيس سو سڑسٹھ ميں مشرقي بيت المقدس پر غاصبانہ قبضہ کر لياـ انيس سو اسي ميں صہیوني ریاست نے بيت المقدس کو مقبوضہ فلسطيني علاقوں سے ملحق اور اسے اپنا دارالحکومت قرار دينے کے لئے ايک بل منظورکيا-

صہیوني ریاست  اس شہر سے متعلق اپنے عزائم کو عملي جامہ پہنانے کے لئے اس شہر کي آبادي کا تناسب خراب کرکے اسے ايک صہیوني شہر ميں تبديل کرنے کے در پے ہے جس پرعالمي رائے عامہ کي جانب سے شديد رد عمل سامنے آيا ہےـ بيت المقدس ميں صہیوني ریاست کي توسيع پسندانہ پاليسيوں کے خلاف مسلمانوں کےساتھ ہي عيسائيوں اور ويٹيکن نے بھي شديد اعتراض کيا ہےـ اديان الہي کے نزديک بيت المقدس کي خاص اہميت کے پيش نظر اس علاقے ميں صہیوني ریاست کي جارحانہ کارروائيوں پر سخت رد عمل سامنے آتا رہا ہےـباني انقلاب اسلامي حضرت امام خميني رحمت اللہ عليہ نے عالمي يوم قدس کا اعلان کيا اور اس طرح بيت المقدس کے لئے دنيا ميں جاري تحريکوں اور اسلامي ممالک کے اقدامات کو منظم کرنے کي کوشش کي ـ اگست انيس سو اناسي ميں تيرہ رمضان کوحضرت امام خميني وحمت اللہ عليہ نے ماہ مبارک رمضان کے آخري جمعے کو عالمي يوم قدس قرار دياجس کے نتيجے ميں صہیوني ریاست کے ‏خلاف عالمي سطح پر جذبات ابھرنے لگےـ مظلوم فلسطينيوں کي حمايت اور صہیوني ریاست کے جرائم اور تسلط پسندانہ اقدامات کي جانب عالمي رائے عامہ کي توجہ مبذول کرانے کے سلسلے ميں حضرت امام خميني رحمت اللہ عليہ کا اعلان بہت اہم ثابت ہواـ عالمي سطح پر فلسطين کے سلسلے ميں بننے والے ماحول سے فلسطينيوں ميں اميد بڑھي اور انہوں نے بلند ہمتي کے ساتھ صہیوني ریاست کے خلاف جد و جہد آگے بڑھائي ـ

انيس سو ستاسي ميں تحريک انتفاضہ شروع ہونے کے ساتھ ہي اور پھر دو ہزار ميں دوسري تحريک انتفاضہ کے وقت يہ جذبات زيادہ واضح طور پر سامنے آئےـعالمي يوم قدس صہیوني ریاست کے جرائم پر عالمي احتجاج اور فلسطينيوں کي حمايت کے سلسلے ميں ايک نيا موڑ سمجھا جاتا ہےـ يہي وجہ ہے کہ رائے عامہ کے نزديک اسے خاص اہميت حاصل ہے ـ.............

/169