18 اگست 2011 - 19:30

امریکہ کے جریدے فارن پالیسی ان فوکس کے ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہےکہ امریکہ نے طالبان کو جو تین سو ساٹھ میلن ڈالر کا تاوان دیا ہے یہ ایک بڑی رسوائي کا بہت چھوٹا سا نمونہ ہے۔

ابنا: کان ہیلینن نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ جو بات امریکی کانگریس کے اراکین کے سامنے آئي ہے وہ امریکی رسوائی کا ایک بہت چھوٹا نمونہ ہے کیونکہ امریکی فوج کی جانب سے طالبان دہشتگردوں کو کہیں زیادہ پیسہ ملا ہے۔ ہیلینن نے پیٹریک انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ جب امریکی فوجی افغانستان میں سڑکوں سے نقل و حرکت کرتے ہیں تو انہیں بالواسطہ طور پر طالبان کو تاوان دینا پڑتا ہے ورنہ وہ نقل وحرکت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے فارن پالیسی ان فوکس جریدہ یہ دعوی کرتا ہےکہ افغانستان میں اربوں ڈالر تاوان کی مد میں خرچ ہوے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے نجی سکیورٹی کمپنیوں کو سکیورٹی کے معاملات سونپ کر ایک طرح سے جنگ کو بھی پرائيویٹ کردیا ہے کیونکہ پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں کے اھلکاروں کی تعداد امریکی فوجیوں سے زیادہ ہے۔ یاد رہے ان ہی سکیوریٹی کمپنیوں کے ذریعے طالبان کو پیسہ دیا جاتا ہے۔ قابل ذکرہے طالبان اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنطیموں کو امریکہ نے ہی جنم دیا تھا اور انہيں ہمیشہ امریکہ کی مالی اور فوجی حمایت حاصل رہی ہے۔ القاعدہ اور طالبان نے ہمیشہ امریکہ کے مفادات کے لئے کام کیا ہے۔............

/169