12 اگست 2011 - 19:30

جرمنی کے ادارہ شماریات کے مطابق اس ملک میں پیدا ہونے والے ہر تین بچوں میں سے ایک بچہ ناجائز ہوتا ہے۔

ابنا: رپورٹ کےمطابق جرمنی کے روزنامہ والٹ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جرمنی میں گذشتہ برس پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کی تعداد بڑھ کر تینتیس فیصد ہو گئي ہے، کہا کہ انیس سو نوے میں یہ تعداد صرف پندرہ فیصد تھی ۔اس اخبار نےاس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جرمنی کی مشرقی ریاستوں میں ایسے بچے زیادہ پیدا ہوتے ہيں جن کے قانونی ماں باپ نہيں ہوتے، کہا کہ اس کے باوجود جرمنی میں پیدا ہونے والے ناجائزبچوں کی تعداد یورپی یونین کی متوسط شرح سےکم ہے۔یورپی یونین کےادارہ شماریات یورو اسٹیٹ نے دو ہزار نو میں جرمنی میں یہ اعداد وشمار تقریبا اڑتیس فیصد بتائے تھے۔اس ادارے نےاس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یورپی یونین میں سب سے زيادہ ناجائز بچے سٹونی میں پیدا ہوتے ہیں، جن کی شرح انسٹھ فیصد ہے اور سب سے کم شرح یونان میں ہے جوسات فیصد ہے، اعلان کیا کہ فرانس، برطانیہ، آسٹریا اور اٹلی میں پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کی شرح بالترتیب 53، 46، 39،اورچوبیس فیصد ہے جن کے والدین نے باقاعدہ شادی نہيں کی ہے۔.............

/169