ابنا: فلسطین کےانفارمیشن سنٹر کی رپورٹ کے مطابق صائب عریقات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے مشرقی بیت المقدس میں سولہ رہائشی کمپلیکسوں کی تعمیر کی اجازت دینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکومت امن کی نہيں بلکہ فلسطینی زمینوں پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔
صائب عریقات نے مزید کہا کہ روڈ میپ سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی رو سے صہیونی ریاست کی جانب سے کالونیوں کی تعمیرغیرقانونی اورامن کی راہ میں رکاوٹ شمار ہوتی ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں کالونیوں کی تعمیر کے لئےصہیونی ریاست کے منصوبوں پر عالمی برادری کی جانب سے تنقید اور مذمت ہو رہی ہے۔
مصرکےوزیرخارجہ محمدکامل عمرو نےکالونیوں کی تعمیرپرمبنی صہیونی پالیسی کی مذمت کی ۔
مصر کے وزیرخارجہ نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے کالونیوں کی تعمیرکی پالیسی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکومت معینہ مدت میں ، اصول وضوابط کے مطابق ٹھوس مذاکرات کے ذریعے فلسطینی فریق کے ساتھ امن کےحصول کی جانب مائل نہيں ہے۔
درایں اثنا روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان الگزینڈرلوکاشیویتج نے صہیونی ریاست سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے رامات شلولو علاقے میں سولہ سو نئے رہائشی کمپلیکسوں کی تعمیر کے پروجکٹ پر نظرثانی کرے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ صہیونی ریاست کو مشرقی بیت المقدس میں کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کر دینا چاہئے۔
کیتھرین ایشٹن نےصہیونی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مارچ دو ہزار ایک سے تعمیر کی جانے والی کالونیوں کو ختم کر دے۔
برطانوی وزیرخارجہ ویلیم ہیگ نے بھی مشرقی بیت المقدس میں چار ہزار نئے رہائشی کمپلیکسوں کی تعمیر کی مذمت کی اور اسے غیرقانونی قرار دیا۔
.............
/169