۱۷.  عَنْ عَجْلَانَ أَبِي صَالِحٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام أَوْقِفْنِى عَلَى حُدُودِ الْإِيمَانِ فَقَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ وَ الْإِقْرَارُ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ صَلَوَاتُ الْخَمْسِ وَ أَدَاءُ الزَّكَاةِ وَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ حِجُّ الْبَيْتِ وَ وَلَايَةُ وَلِيِّنَا وَ عَدَاوَةُ عَدُوِّنَا وَ الدُّخُولُ مَعَ الصَّادِقِينَ.

اصول كافى ج : 3 ص : 29 رواية :2

عجلان ابو صالح کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا مجهے ایمان کی حدود سے آگاہ فرمائیں. امام علیہ السلام نے فرمایا: اس بات پر گواہی دینا کہ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد (ص) رسول خدا ہیں اور خدا کی جانب سے آپ (ص) کے لائی ہوئی چیزوں کا اقرار کرنا اور پنجگانہ نمازوں کی بجاآوری، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، حج بیت اللہ کی بجاآوری، ہمارے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ہمارے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کرنا، اور سچوں کے ساتھ ہوکر رہنا.

(چنانچہ خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّادِقِينَ (سوره توبه آيت 119)ـ اے ايمان والو! (خدا كي نافرماني سے) پرہيز كرو اور سچوں كے ساتھ ہوجاؤ)۔

۱۸.  عَنْ زُرَارَةَ عن عَنْ أَبِى جَعْفَرٍ علیه السلام قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسَةِ أَشْيَاءَ عَلَى الصَّلَاةِ وَ الزَّكَاةِ وَ الْحَجِّ وَ الصَّوْمِ وَ الْوَلَايَةِ قَالَ زُرَارَةُ فَقُلْتُ وَ أَيُّ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ فَقَالَ الْوَلَايَةُ أَفْضَلُ لِأَنَّهَا مِفْتَاحُهُنَّ وَ الْوَالِي هُوَ الدَّلِيلُ عَلَيْهِنَّ...

اصول كافى ج : 3 ص : 30 رواية :5

امام باقر (ع ) نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر استوار ہے. نماز، زکوٰة، حج، روزہ اور ولایت.

زرارہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کون سی چیز چیز افضل و برتر ہے؟ فرمایا: ولایت افضل ہے کیونکہ ولایت ان اشیاء کی کنجی ہے اور والی (امام اور نائب امام) ان اعمال کی طرف بندگان خدا کا راہنما ہے. (اور ائمہ علیہم السلام نماز، روزہ، زکوٰة، حج اور روزے کی طرف راہنمائی کرتے ہیں اور یہ اعمال ان کی راہنمائی کے بغیر صحیح نہیں ہیں)۔

۱۹.  ... عن ابي حمزة عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَسْأَلُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام فَقَالَ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَخْبِرْنِى عَنِ الدِّينِ الَّذِى افْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى الْعِبَادِ مَا لَا يَسَعُهُمْ جَهْلُهُ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ غَيْرُهُ مَا هُوَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَيَّ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم وَ إِقَامُ الصَّلَاةِ وَ إِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ ثُمَّ سَكَتَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ وَ الْوَلَايَةُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَذَا الَّذِى فَرَضَ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ وَ لَا يَسْأَلُ الرَّبُّ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولَ أَلَّا زِدْتَنِى عَلَى مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْكَ وَ لَكِنْ مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم سَنَّ سُنَناً حَسَنَةً جَمِيلَةً يَنْبَغِى لِلنَّاسِ الْأَخْذُ بِهَا

اصول كافى ج : 3 ص : 35 رواية :11

على بن ابى حمزہ کہتے ہیں: میں ابو بصیر کو امام صادق علیہ السلام سے دریافت کرتے ہوئے سنا جو عرض کررہے تهے: میں آپ پر فدا ہوجاؤں مجهے اس دین کے بارے میں بتائیں جو خداوند متعال نے بندوں کے اوپر فرض کیا ہے اور اس کے سوا بندوں سے کوئی اور چیز قابل قبول نہیں ہے اور بندوں کے لئے اس کے حوالے سے نادانے جائز نہیں ہے.

امام علیہ السلام نے فرمایا: دوبارہ پوچھو! ابوبصیر نے اپنا سوال دہرایا. تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوا کوئی بھی لائق پرستش نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کے رسول ہیں؛ اور نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا، حج بیت اللہ بجا لانا ہر اس شخص کے لئے جو اس کی استطاعت اور توانائی رکھتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا. اس کے بعد امام علیہ السلام لمحہ بهر خاموش رہے اور دو مرتبہ فرمایا: اور ولایت پر یقین و ایمان رکھنا؛ یہی وہ دین ہے جو خدا نے اپنے بندوں پر فرض کردیا ہے؛ اور خداوند متعال قیامت کے روز بندوں سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری طرف سے فرض شدہ اعمال سے بڑھ کر کیوں کوئی عمل نہیں کیا مگر اگر کوئی واجبات و فرائض سے بڑھ کر عمل کرے تو اس کی جزا اور انعام میں اضافہ فرمائے گا. بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خوبصورت سنتیں وضع فرمائی ہیں اور لوگوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ ان سنتوں پر عمل کریں.

 

۲۰.  ... قَالَ السّائِلُ لِأَبِي جَعْفَرٍ علیه السلام يَا ابْنَ رَسُولِ اللّهِ (ص) كَيْفَ أَعْرِفُ أَنّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ تَكُونُ فِي كُلّ سَنَةٍ قَالَ إِذَا أَتَى شَهْرُ رَمَضَانَ فَاقْرَأْ سُورَةَ الدّخَانِ فِي كُلّ لَيْلَةٍ مِائَةَ مَرّةٍ فَإِذَا أَتَتْ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَ عِشْرِينَ فَإِنّكَ نَاظِرٌ إِلَى تَصْدِيقِ الّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ‏

اصول كافى جلد 1 صفحه: 368 رواية: 8

کسی سائل نے امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا: اے فرزند رسول خدا (ص)! میں کیسے مطمئن ہوجاؤں کہ ہر سال ماہ مبارک میں لیلة القدر بھی ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جب ماه مبارک رمضان وارد ہوجائے تم ہر شب 100 مرتبه سوره دخان کی تلاوت کرو اور جب تئیسویں کی رات ہوگی تو تم اپنے سوال کا جواب دیکھوگے اور اس کی تصدیق کروگے.

۲۱.  عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ ابو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام لابي بصير: ... يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ لِرَمَضَانَ حَقّاً وَ حُرْمَةً لَا يُشْبِهُهُ شَيْءٌ مِنَ الشُّهُورِ وَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه و آله و سلم  و سلم يَقْرَأُ أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ أَوْ أَقَلَّ إِنَّ الْقُرْآنَ لَا يُقْرَأُ هَذْرَمَةً وَ لَكِنْ يُرَتَّلُ تَرْتِيلًا فَإِذَا مَرَرْتَ بِآيَةٍ فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ فَقِفْ عِنْدَهَا وَ سَلِ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّةَ وَ إِذَا مَرَرْتَ بِآيَةٍ فِيهَا ذِكْرُ النَّارِ فَقِفْ عِنْدَهَا وَ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ

اصول كافى جلد 4 صفحه : 422 رواية : 2

على بن ابى حمزہ کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو ... امام علیہ السلام نے ابوبصیر سے مخاطب ہوکر فرمایا: ماہ مبارک رمضان کے لئے ایک حق اور ایک حرمت ہے اور دوسرے مہینے اس کی مانند نہیں ہیں. اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب قرآن کی تلاوت ایک مہینے یا اس سے کمتر مدت میں مکمل کیا کرتے تھے اور قرآن مجید کی تلاوت میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ تلاوت قرآن ہموار، طمانیت اور خوبصورت لحن کے ساتھ ترتیل کے انداز میں ہونی چاہئے. اور جب کسی آیت میں جنت کا نام آئے تو رک جاؤ اور خداوند عزّ و جلّ سے اپنے لئے جنت کی دعا کرو اور جب کسی آیت میں دوزخ کا نام دیکھو تو رک جاؤ اور دوزخ کی آگ سے خداوند عزّ و جلّ کی پناہ مانگو.

۲۲. عَنْ بَدْرِ بْنِ الْخَلِيلِ الْأَزْدِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِساً عِنْدَ أَبِى جَعْفَرٍ علیه السلام فَقَالَ آيَتَانِ تَكُونَانِ قَبْلَ قِيَامِ الْقَائِمِ علیه السلام لَمْ تَكُونَا مُنْذُ هَبَطَ آدَمُ إِلَى الْأَرْضِ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ الْقَمَرُ فِى آخِرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى آخِرِ الشَّهْرِ وَ الْقَمَرُ فِى النِّصْفِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ علیه السلام إِنِّى أَعْلَمُ مَا تَقُولُ وَ لَكِنَّهُمَا آيَتَانِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ هَبَطَ آدَمُ علیه السلام.

حديث شماره 258روضة الكافي

 بدر بن خلیل ازدى کہتے ہیں: میں امام باقرالعلوم علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: امام قائم علیہ السلام کے ظہور پرنور سے قبل دو نشانیاں نمودار ہونگی جو ھبوط آدم علیہ السلام سے اب تک نمودار نہیں ہوئیں:

ـ نصف رمضان میں سورج گرہن ہوگا اور

ـ ماہ رمضان کے آخر میں چاند گرہن ہوگا۔

حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا (ص)، عام طور پر سورج گرہن مہینے کی آخر میں ہوتا ہے اور چاند گرہن مہینے کے وسط میں ہوتا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جو تم کہہ رہے ہو اس کا مجھے علم ہے لیکن یہ دو ایسی نشانیاں ہیں جو آدم علیہ السلام کی (جنت سے زمین پر) اتر آنے سے اب تک نمودار نہیں ہوئیں۔(امام علیہ السلام کی اس فرمان میں ظہور امام زمانہ کی دونشانیان بیان ہوئی ہیں)۔

۲۳.  قال رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخره عتق من النار.

رسول الله صلی الله علیہ و آله و سلم نے فرمایا: رمضان ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء رحمت ہے، اس کا وسط مغفرت ہے اور اس کی انتہا دوزخ کی آگ سے آزادی و رہائی ہے.

بحار الانوار،ج93،ص342.

۲۴.   عن الصادق، عن آبائه عليهم السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه واله: شعبان شهري و رمضان شهر الله عز و جل فمن صام من شهري يوما كنت شفيعه يوم القيامة، و من صام شهر رمضان اعتق من النار  ... و قال صلي الله عليه و آله و سلم: شعبان شهري، و رمضان شهر الله، و هو ربيع الفقراء، و إنما جعل الله الاضحى لشبع مساكينك