ابنا: پارلیمنٹ نیوز کے مطابق حسین ابراہیمی نے روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتےہوے کہ ماسکو بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے افتتاح کےلئے ایران کی اجازت کا منتظر ہے کہا کہ روسی کمپنی کو معاہدے کے مطابق بوشہر ایٹمی بجلی گھر کو مکمل اور اس کا افتتاح کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس کا یہ کہنا کہ وہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے افتتاح کے لئے ایران کی درخواست کا منتظر ہے ایسی کوئي چیز معاہدے میں نہيں ہے بنابریں بوشہر ایٹمی بجلی گھر کومکمل کرنےمیں کسی طرح کی تاخیر قابل قبول نہیں ہوسکتی اور ماسکو کو مقررہ مدت کے اندر کام مکمل کرنا ہوگا۔ مجلس شوراے اسلامی میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ نے کہا کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی تکمیل میں کسی طرح کی تاخیر قابل قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ ہمیں اس ایٹمی بجلي گھر سے پیدا ہونےوالی بجلی کو مقررہ مدت میں نیشنل گرڈ میں شامل کرنا ہے۔یادرہے روس کی وزارت خارجہ کےترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ روس اسی وقت بوشہر ایٹمی بجلي گھر کا افتتاح کرے گا جب ایران اس سلسلےمیں واضح درخواست دے گا۔ روس کا یہ بیان ایسے عالم میں آرہا ہےکہ ماسکونے کہا تھا کہ اگست میں بوشہر ایٹمی بجلي گھر کام کرنا شروع کردے گا۔
..............
/169
..............
/169