اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سحلول نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی امریکہ کا آله کار ہے اور امریکہ اس کو علاقے میں اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتا ہے۔
انھوں نے کہا: ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ "اگر اسرائیل مرمرہ نامی ترک جہاز پر حملہ کرنے کے سلسلے میں ترکی سے معافی مانگے تو وہ غزہ کا دورہ نہیں کریں گے اور اگر اسرائیل نے ایسا نہیں کیا تو وہ غزہ کے دورے پر جائیں گے" اور اردوغان نے یہ اعلان کرکے عرب اقوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی ہے اور ترکی بھی اسرائیل کی طرح اپنے مفادات کو ہی اہمیت دیتا ہے۔
السحلول نے کہا کہ مرمرہ نامی جہاز پر صہیونی حملے کی رپورٹ کی عدم اشاعت کے لئے امریکی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ترکی اور صہیونی ریاست کے سفارتکاروں کے درمیان حال ہی میں یورپی ممالک اور امریکہ میں خفیہ مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور یہ مذاکرات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور ترکی کے اقدامات درحقیقت وہ کردار ہیں جو ان کو امریکہ نے سونپ دیئے ہیں اور اس وقت اسرائیل اور ترکی کے درمیان جو کشمکش کی فضا ہے وہ بھی ان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور جب امریکی مفادات کا تقاضا ہوگا ان کے درمیان دوستانہ تعلقات اعلانیہ ہوجائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110