ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے ترجمان مائیکل وون نے آج کہا ہے کہ افغانستان کے صوبۂ پروان میں تعینات امریکہ کے تقریبا چھ سو پچاس فوجی اس صوبے سے نکل چکے ہیں ۔ اور افغانستان میں موجود امریکہ کے تقریبا آٹھ سو فوجی رواں مہینے کے آخر تک اس ملک سے نکل جائيں گے۔ افغانستان میں نیٹو کے پریس آفس نے بھی افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی تصدیق کردی ہے۔ دریں اثناء نیٹو نے اعلان کیا ہےکہ وہ افغانستان میں ہلاک ہونے والے چھ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تحقیق کرے گی۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق نیٹو نے آج ایک بیان جاری کیا ہے جس میں آیا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبۂ خوست میں اپنے فوجیوں کی کارروائی کے دوران مارے جانے والے چھ افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تحقیق کرے گی۔ واضح رہے کہ جمعرات کے دن صوبۂ خوست میں نیٹو کے فوجیوں کے آپریشن میں چھ افغان شہری جاں بحق ہوگۓ تھے جن میں ایک گیارہ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ نیٹو نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس کارروائی میں صرف ایک عام شہری زخمی ہوا ہے ۔ لیکن افغان صدر حامد کرزئي کی جانب سے اس آپریشن کےبارے میں تحقیق کۓ جانے کے حکم کےبعد نیٹو نے اس کارروائی کے سلسلے میں تحقیق کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء افغانستان کے صوبۂ ہلمند میں پانچ عام شہری جاں بحق ہوگۓ ہیں۔ صوبۂ ہلمند کے سنگین علاقے میں ایک مسافر بس سڑک کے کنارے نصب ایک بم سے ٹکرا گئي جس کے نتیجے میں ایک زور دار بم دھماکہ ہوا ۔ اس بم دھماکے میں کم از کم پانچ افغان شہری جاں بحق ہوگۓ ہیں۔ ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہےکہ طالبان جنگوؤں نے صوبۂ خوست میں واقع صبری شہر کے قریب امریکی فوجیوں کا ایک ٹینک تباہ کردیا ہے۔ اس حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوۓ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
14 جولائی 2011 - 19:30
News ID: 253676
امریکی فوجیوں کا پہلا دستہ افغانستان سے نکل گيا ہے۔