ابنا: اگرچہ بغداد واشنگٹن معاہدےکی بنیاد پرامریکی فوجیوں کواکتیس دسمبرتک عراق سےپوری طرح نکل جاناہے لیکن واشنگٹن کےحکام اپنےکچہ فوجیوں کوعراق میں تعینات رکھناچاہتےہیں۔اس مسئلےکوعملی جامہ پہنانےکےلئےامریکہ نےبغداد حکومت پراپنادباؤ بڑھادیاہے۔عراق کےصحافتی حلقوں نےبھی فاش کیاہےکہ امریکی سفارتخانہ عراق میں امریکی فوج کےتعینات رہنےپرمبنی معاہدے کومسلط کرنےکےلئےعراقی حکام سےصلاح ومشورہ کررہاہے۔درایں اثناریپبلکن سینیٹرجان میک کین نےعراق کےحساس علاقوں میں فوج تعینات رکھنےکی بات کی ہے۔انھوں نےعراق میں قیام امن کےلئےدس ہزارسےتیرہ ہزارتک فوجیوں کی موجودگی کوضروری قراردیاہے۔ میک کین نےیہ موقف ایسےعالم میں ظاہرکیاہےکہ امریکی وزیرجنگ رابرٹ گیٹس نےابھی حال ہی میں اعلان کیاہےکہ امریکہ کوعراقی سیکورٹی اہلکاروں کی ٹریننگ اوردہشتگردی کےخلاف جنگ کےلئےدسمبردوہزارگیارہ کےبعد بھی عراق میں تعینات رہناچاہئے۔عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کےبارےمیں امریکی حکام کےبیانات اس موقف کی تائیدکرتےہیں کہ وہائٹ ھاؤس بغداد واشنگٹن سیکورٹی معاہدےکوتوڑنےکی کوشش کررہاہے۔ سن دوہزارگیارہ کےبعد عراق میں قانونی موجودگی امریکی حکام کی ایسی خواہش ہے جس پروہ ابھی سےزوردےرہےہیں۔عراقی سیکورٹی اہلکاروں کی ٹریننگ، سیکورٹی کےمسائل اوردہشتگرد گروہوں کامقابلہ جیسی باتیں ایسابہانہ ہے جسےامریکی عراق میں باقی رہنےکےلئےاختیارکررہےہیں۔ بہت سےسیاسی تجزیہ نگاروں کاخیال ہےکہ گذشتہ دنوں عراق میں ہونےوالی بدامنی کاتعلق اس ملک میں امریکیوں کی موجودگی کی خواہشات سےمربوط ہے۔واشنگٹن کےحکام کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہےکہ سیکورٹی مسائل کاسہارالےکرعراقی سیکورٹی اہلکاروں کی صلاحیت پرانگلی اٹھائيں۔ عراق میں بدامنی اس ملک پرقبضہ برقراررکھنےکاجواز پیش کرنےکےلئےامریکی پالیسی کاحصہ ہے۔اب جب کہ عراق سےامریکی فوجیوں کےنکلنےمیں صرف چھ مہینےکاعرصہ باقی رہ گیاہے،امریکی حکام چاہتےہیں کہ اس ملک میں اپنی فوجی موجودگي باقی رکھنےکاکوئي جوازپیداکریں۔ عراقی حکومت نےاب تک امریکیوں کی جانب سےنئےسیکورٹی معاہدےکےسامنےگھٹنےنہيں ٹیکےہیں اگرچہ ایادعلاوی کی زیرقیادت العراقیہ گروہ نےوہائٹ ہاؤس کی خواہشات کےمطابق عراق میں امریکی فوج کی موجودگی برقراررکھنےکی ضرورت پرتاکیدکی ہےلیکن اس ملک کی اکثریت امریکہ کےاس موقف کےخلاف ہے۔ عراقی عوام نےگذشتہ دنوں امریکہ کےخلاف مظاہرہ کرکےاس ملک سےامریکی فوجیوں کےمکمل انخلاپرتاکیدکی ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی نےبھی عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کاسلسلہ جاری رہنےکی مخالفت کرتےہوئےعراق سےامریکی فوجیوں کےانخلاکےبارےمیں بغداد واشنگٹن سیکورٹی معاہدےکی تمام شقوں پرعمل درآمد کامطالبہ کیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
دنیاکےانصاف پسندوں کامطالبہ: ہائی کمشنر ہیومین رائٹس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کرےCLICK