4 جولائی 2011 - 19:30

دنیاکےہردین اورثقافت میں، ہرمذہب وملت میں اور ہرملک وقوم کےدرمیان بےگناہ انسان کےقتل کومذموم قابل نفرت اورناقابل معافی جرم سمجھاجاتاہےاوردین اسلام کی آسمانی کتاب نےتوانسان کی جان کواتنامحترم قراردیاہےکہ ایک بےگناہ انسان کےقتل کوتمام انسانوں کاقتل گرداناہے۔

ابنا: اوردنیانےبھی اسےناقابل معافی جرم سمجھاہےاسی بناپرتوہرقاتل ومجرم کوعدالت کےکٹگھرےمیں کھڑاکیاجاتاہے اوراس پرمقدمہ چلاکراسےقرارواقعی سزادی جاتی ہےلیکن جرائم کی دنیامیں اپنےپیرجمالینےوالےمجرم بعض اوقات اپنےاثرورسوخ یامختلف حربوں سےبچ نکلنےمیں کامیاب بھی ہوجاتےہيں۔ ان کےبچ نکلنےکاسب سےبڑانقصان یہ ہوتاہےکہ معاشرےميں بدامنی اوربےاعتمادی کاماحول پیداہونےلگتاہے اورمجرموں کےکھلےبندوں گھومنےکی بناپرہرشریف انسان اپنی سیکورٹی کےلئےخطرہ محسوس کرنےلگتاہے۔چنانچہ سماج کومحفوظ رکھنےکےلئےاس کامجرموں سےپاک ہوناضروری ہے اورجب تک مجرم کوقرارواقعی سزانہيں مل جاتی اس وقت تک معاشرہ محفوظ نہیں ہوسکتااوراسی دلیل کی بناپرمجرم بالخصوص قتل کےمجرم کوسزاملناضروری ہے،چاہےاس عمل ميں کتنی ہی تاخیرکیوں نہ ہو۔آج ہم جس انسانیت سوزواقعےکاذکرکرناچاہتےہیں وہ آج سےتیئس سال پہلےخلیج فارس کی فضاؤں میں پیش آیاتئیس سال پہلے،تین جولائی انیس سواٹھاسی وہ منحوس تاریخ ہےجس میں امریکہ نےایران کےمسافربردارطیارے کومیزائل کانشانہ بنایااورجہازمیں سوارتمام مسافروں کوشہیدکردیاتھا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیاجب اسلامی جمہوریہ ایران کامسافربردارطیارہ ایران کےجنوبی شہربندرعباس سےدبئی کےلئےروانہ ہوااورعین اس وقت جب وہ خلیج فارس کی فضاؤں سےگذررہاتھا، امریکی بحری بیڑےوینسنس نےمیزائل کانشانہ بناکرتباہ کردیا۔امریکی بحری بیڑاخلیج فارس ميں جزیرہ ہنگام کےقریب تعینات تھا۔اس ہولناک اورانسانیت سوزواقعےمیں دوسواٹھانوےافراد شہیدہوئےتھے۔اس طیارےمیں تیرہ سال سےکم عمرکےچھیاسٹھ بچے اورترپن عورتیں تھیں جبکہ چھیالیس غیرملکی بھی طیارےمیں سوارتھے جوایران سےدبئی جارہےتھے ان چھیالیس غیرملکیوں میں اکثرہندوستانی اورپاکستانی شہری تھے۔امریکہ نےانسانیت کےخلاف اس کھلی ہوئی جارحیت کاارتکاب اس وقت کیاجب عراق کےبعثی ڈکٹیٹرصدام نےایران پرجنگ مسلط کررکھی تھی اورامریکہ سمیت تمام مغربی ممالک اس کابھرپورساتھ دےرہےتھےبعض مغربی ملکوں نےتواسےکیمیاوی ہتھیاربھی دےرکھےتھے جس کااستعمال صدام نےایرانی اورکرد عوام کےخلاف کیاجس میں ہزاروں لوگ شہید اورزخمی ہوئے۔عین جنگ کےوقت امریکہ کےاس اقدام کاایک مقصدایران کےاسلامی جمہوری نظام کوگراناتھا۔یوں توامریکہ نےایران عراق جنگ ميں، اسلام واسلامی نظام سےکینہ وعناد کی بناپرعراق کوہرطرح سےمسلح کیااورہرسطح پراس کاساتھ دیالیکن اس کےباوجود وہ نظام اسلامی کوختم کرنےمیں کامیاب نہ ہوا۔اسلامی نظام کوختم کرنےکی جانب سےمایوس ہونےکےبعداس نےاپنی عاجزی اوربےبسی کااظہاربےگناہ مسافروں کوشہیدکرکےکیا۔اس مسافربردارطیارےپرمیزائلی حملےکےبارےمیں امریکی حکام نےاس کاجوازپیش کرنےکےلئےمتضاد بیانات دیےاوریہ ظاہرکرنےکی کوشش کی کہ یہ دشمنانہ اقدام صرف ایک غلطی تھی لیکن اس بات کےپیش نظرکہ نینسنس نامی امریکی بحری بیڑا جدیدترین ریڈار سسٹم اورآلات سےلیس تھا اورمسافربردارطیارےکاپروازکرنابھی واضح تھالہذاغلطی کاامکان ہی باقی نہيں رہ جاتا جواس بات کاثبوت ہےکہ امریکہ نےجان بوجہ کرمسافرطیارےپرحملہ کیاتھا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سےامریکہ کےخلاف کیس دائرکئےجانےکےبعداقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےپانچ مستقل اراکین نےاس واقعےپراظہارافسوس کرتےہوئےایک نمائشی قرارداد جاری کرنےپراکتفاکی اورامریکہ کوکسی طرح کی سزا نہيں سنائی۔ ایئرلائنس کےادارےایکاؤ نےبھی اس حملےکاشکارہونےوالےافراد کےاہل خاندان کےساتھ اظہارہمدر کرتےہوئےاس واقعہ کوصرف ایک غلطی قراردےکرخاموشی اختیارکرلی ۔لیکن اس بیچ ایک بات جونمایاں ہے وہ یہ ہےکہ یہ واقعہ علاقےمیں امریکہ کی موجودگی کی وجہ سےپیش آیااوریہ علاقےمیں اس کی ناگوار موجودگی کاہی ایک نتیجہ ہے۔اس جرم کودوعشروں سےزیادہ کاعرصہ گذرنےکےباوجود امریکی فوجی علاقےميں اپنی موجودگی اوراثر ونفوذکوروزبروزبڑھاتےجارہےہيں جبکہ اس کی بناپرعلاقےمیں ناامنی بڑھتی جارہی ہے۔چنانچہ اس تناظرمیں پاکستانی تجزیہ نگارجناب ثاقب اکبرکہتےہیں۔۔۔۔۔سامعین قتل،قتل ہوتاہےلیکن اگروہ ایک نہيں بلکہ سیکڑو ایسےبےگناہ انسانوں کاقتل ہوجن کاقصور صرف یہ تھاکہ وہ ایک ایسےاسلامی جمہوری نظام کےحامل ملک کےطیارےمیں سفر کررہےہيں کہ امریکہ جس کےنظام کامخالف ہےتواس کےجرم کی سنگینی بہت بڑہ جاتی ہے۔اورجب تک مجرم کوقرارواقعی سزا نہيں مل جاتی اس وقت تک انسانی معاشرہ سیکورٹی محسوس نہيں کرسکتااوراگرایساسفاک مجرم علاقےمیں زورزبردستی کےذریعےموجود ہوتوبالخصوص علاقےکےملکوں کالئےخطرہ دوچنداں ہوجاتاہے۔اوریہی وجہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران،علاقےمیں اغیارکی موجودگی کوبدامنی کاباعث سمجھتاہےاورعلاقےکےملکوں کےہاتھوں ہی علاقےکی سیکورٹی پرتاکیدکرتاہے۔.............

/169