ابنا: اخبار نے یہیں پربس نہیں کیا بلکہ مزید لکھتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات تناوٴ کا شکارہیں ان تعلقات کا از سر نو جائزے کے دوران کئی فکر مند لوگوں نے اسلام آباد کی مدد جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
اخبار کے مطابق ’امریکا کے لیے افغانستان سے اپنی فوج کے باوقار انخلاء کے لیے اور جوہری ہتھیاروں سے مسلح پاکستان کو ناکامی سے بچانے کے لیے اس کی حمایت کی خاطر پیسے دینا ایک خوفناک خیال ہے‘۔
9/11کے بعد سے لے کر اب تک القاعدہ کے خلاف تمام تر کامیابیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اخبار ہرزہ سرائی جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے کہ پاکستان کو امداد دینے یا اس کے خلاف پابندیوں سے مطلوبہ اثرات نہیں پڑتے۔
پاکستان کی مدد سے دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ نتائج حاصل کرنے اور اس جنگ میں ہزارھاا پاکستانیوں کی ہلاکت پر آنکھ بند کرتے ہوئے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان دو طبقوں جہادی نما فوج اور ریاست پر مشتمل ہے ریاست کے نام پر امداد سے فوج فائدے حاصل کرتی ہے، 1980 کی دہائی میں سوویت جنگ کے دوران امریکاکی مدد اور پشت پناہی سے پاک فوج میں جہادی عناصر کی شمولیت شروع ہوئی اور ان پر اس وقت سے موٴثر کنٹرول کیا گیا‘۔
اخبار کے مطابق پاکستانی ریاست کی حیثیت ایک خو ل سے زیادہ کچھ نہیں۔تاہم کسی قسم کی پابندی سے پاک فوج کو کوئی اثر نہیں پڑتا۔1998کے ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان پر اقتصادی پابندیوں سے عام پاکستانی متاثر ہوا۔ پاکستان کو ستمبر 2001 کے بعد دی گئی امداد کا فائدہ فوجی افسران اور عسکریت پسندوں کو ہوا عام شہری اس امداد سے فائدہ اٹھانے میں بے بس نظر آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110