بسم الله الرحمن الرحیم
سامراج کی شناخت اور مقابلے کے لیے حکمت عملی
نذر حافی
علوم و فنون کے موجودہ زمانے میں دنیا جہاں پر گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرچکی ہے وہیں پر پورا انسانی معاشرہ باہمی خلفشار اور ابتری کا شکار بھی ہے۔ بھوک، افلاس، بیروز گاری، مہنگائی، کرپشن ، دھونس دھاندلی اور مکرو فریب کے سرطان نے ہر ملک اور ہر معاشرے کے قلب و جگر میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہ ادارے جو بنی نوع انسان کو اِن مسائل سے نجات دلانےکیلئے معرض وجود میں آئے تھے خود انہی مسائل کا شکار ہیں۔ آج کے دور میں انسان پرمسائل کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ بہت سارے آزاد ممالک میں بسنے والے آزاد لوگوں کی معاشرتی حالت ہزاروں سال پرانے غلاموں کی حالت سے بھی بدتر ہے۔ ماضی کا غلام انسان خود کو غلام سمجھ کر ظالموں اور جابروں کی غلامی کرتا تھا لیکن آج کا انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھ کر ظالموں اور جابروں کی غلامی کر رہا ہے۔ ماضی کی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی اور علم و شعور کے موجودہ دور میں بھی انسان کا مشکلات اور مسائل کے ہاتھوں پسنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل تو بڑھے ہیں لیکن مسائل کم نہیں ہوئے اور اس کاباعث یہ ہے کہ انسانی وسائل پر ماضی کی طرح آج بھی فرعونوں، ظالموں اور جابروں کا قبضہ ہے۔ ہم تاریخ عالم کا جتنا بھی مطالعہ کریں اور انسانی مسائل پر جتنی بھی تحقیق کریں، کتاب تاریخ میں جہاں جہاں انسان نظر آئے گا وہاں وہاں انسانی وسائل پر قابض فرعون ،شدّاد اور نمرود بھی نظر آئیں گے۔چنانچہ انسانی مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ ہر مظلوم انسان کویہ شعوردیاجائے کہ اُسے درپیش مشکلات کی اصلی جڑیں کہاں ہیں؟اس کےحقوق کو کون کس طرح پامال کررہاہے؟ظالم کس طرف مورچہ زن ہیں؟ غاصبوں کے پاس کیا کچھ اسباب و وسائل اور ہتھیارہیں؟ دشمن کو کمک کس طرف سے پہنچائی جارہی ہے؟اور دشمن کے آئندہ کےاہداف کیا ہیں؟ اگر انسان کو دشمن کی مکمل طور پر آگاہی نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ دشمن کو پسپا نہیں کیا جاسکتا بلکہ دشمن کے حملوں سے خود کو بھی محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ لہٰذا تحقیق کیلئے ہمیں سب سے پہلے انسان "حضرت آدم" کے مسائل کا جائزہ لینا ہوگا۔ روایات اور قرآنی آیات نیز دیگر آسمانی کتب کی رو سے حضرت آدم{ع} کا حقیقی دشمن ابلیس تھا اور ان کے تمام تر مسائل اور پریشانیوںکا باعث بھی ابلیس ہی تھا ۔اب اگر ہم انسانیت کے پہلے دشمن ابلیس کا مقابلہ کرناچاہتے ہیں تو ہمارے لیے ابلیس کی شناخت ،اس کا طریقہ واردات اور اس کے اہداف کا جاننا نہایت ضروری ہے۔ ابلیس کاتعارف قرآن مجیدنے اس طرح سے کرایاہے: ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ اس کے طریقہ واردات کے بارے میں قرآن حکیم نے اس طرح فرمایا ”الّذی یوسوس فی صدورِ الناس“ اور اس کے اہداف کے وضاحت یوں کی ”قالَ فَبِعِزَّتِکَ لا غوینّھم اجمعین اِلا عبادک منھم المخلصین“ مندرجہ بالا تینوں نکات کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ ابلیس مستکبر ہے اُس کا طریقہ واردات وسوسہ ہے اور اس کا ہدف انسانوں کو گمراہ کرنا ہے۔ اگر ہم مستکبر، وسواس اور گمراہی کو سمجھ جائیں توعصر حاضر میں بھی عہد نو کے ابلیسوں کو ڈھونڈنا اوران کامقابلہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ اسلامی علوم و معارف کی روشنی میں ”مستکبر“ کے معنی اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور صرف اور صرف اپنے آپ کو ہی معزز و محترم سمجھنے کے ہیں جبکہ ”وسواس“ سے مراد انسانی قلوب و اذہان میں وہم و شک کی آبیاری کرکے انسانی صلاحیتوں کوماند کرنا ہے اور”گمراہی“ سے مراد کسی کو راستے سے ہٹا کر منزل سے دور کرنا ہے۔ زمان و مکان اور مدین و مذہب کی قید نہیں، جس بھی زمانے میں، جس بھی جگہ، پر، جس بھی شخص میں یہ تینوں صفات اکٹھی ہوجائیں وہی ابلیسی نمائندہ ہے۔ وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ جیسےجیسے اولاد آدم کا قافلہ گردش کرتا رہا ویسے ویسےاولاد ابلیس کا سلسلہ بھی آگے بڑھتا رہا۔ برتری کاجو دعویٰ ابلیس کاحضرت آدم{ع} کے مقابلے میں تھا وہی قابیل کا ہابیل{ع} کے مقابلے میں تھا، جو نخوت ابلیس میں تھی وہی فرعون و نمرود اورابو لہب و ابو جہل میں تھی ۔جو انانیت ابلیس میں تھی وہی یزید،حجّاج،فہد ،صدام ،ضیاالحق ،مشرف اور قذافی میں بھی دیکھنے میں آئی۔ یہ سلسلہ ہر دور میں چلتا رہا اورہر دور میں قافلہ بشریت کی تاک میں بیٹھےابلیس نہتّے انسانوں پرشب خون مارتے رہے ، استحصال کرتے رہے اور ظلم و بربریت کے ساتھ اپنی طاقت و برتری کا لوہا منواتے رہے اور اسی ابلیسی ظلم و ستم نے بعد ازاں سامراجیّت کے مکتب کو جنم دیا ۔اب آیئے دیکھتے ہیں کہ سامراجیّت کیاہے: ”مستکبرین کے دیگر ریاستوں کے مفتوح کرنے کے عمل کو علم سیاسیات میں سامراجیت کہا جاتا ہے“ مفکر سیاسیات چارلس اے برڈ کے مطابق سامراجیت وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت حکومت کی مشینری اور ڈپلومیسی کو دوسری اقوام یا نسلوں کے ماتحت علاقوں پر قبضہ کرنے، زیر حمایت رکھنے یا حلقہ اثر میں لانے کیلئے استعمال میں لایا جائے تاکہ صنعتی تجارت کی ترقی اور سرمایہ لگانے کے مواقع حاصل ہوسکیں۔ سامراجیّت بطور مکتب: تاریخ بشریّت میں ابلیسیت باقاعدہ ایک مکتب کی صورت میں سامراج کے نام سے پندرہویں صدی میں منظم ہوئی۔یہ وہ زمانہ تھا جب مشرق وسطی اور ایشیاء کے بارے میں اہل یورپ نہ ہونے کے برابر معلومات رکھتے تھے۔ان کی معلومات کی کہکشاںزیادہ تر مارکوپولو کے سفرنامے کے گرد ہی گردش کرتی رہتی تھی۔پھر جیسے جیسے ان کی معلومات بڑھتی گئیں یہ دوسرے ممالک کو مفتوح کرتے آگے بڑھتے چلے گئے۔ سولہویں و سترہویں صدی میں سائنسی ایجادات اور صنعتی انقلاب نے سامراجی قوتوں میں نئی روح پھونکی اور ہالینڈ، برطانیہ، فرانس، سپین اور پرتگال نے دیگر ریاستوں کو مفتوح کرنے پر کمر کس لی۔یاد رہے کہ صاحبان علم و دانش سامراجیّت کو اس کی عمر کے لحاظ سے دو حصوں سامراجیّت قدیم اورسامراجیّت جدید میں تقسیم کرتے ہیں۔ سامراجیّت قدیم: پندرہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی میلادی تک کے زمانے کو سامراجیّت قدیم کہاجاتاہے۔اس زمانے میں سامراجیّت کا طریقہ واردات کچھ اس طرح تھا: ۱۔بغیر کوئی بہانہ ڈھونڈےدوسری ریاستوں پرقبضہ کرلیاجاتا تھا۔ ۲۔قبضہ براہ راست کیاجاتاتھا۔ ۳۔مفتوحہ ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی تھی،قتل عام کیاجاتاتھا اور بستیوں کو آگ لگا دی جاتی تھی۔ سامراجی طاقتیں جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ یہ طریقہ ان کے لئے زیادہ سود مند نہیں ہے چونکہ اس طرح انہیں مندرجہ زیل دو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا: ۱۔مفتوحہ ریاستوں میں پائی جانے والی عوامی نفرت انہیں بے چین کئے رکھتی تھی۔ ۲۔کھلم کھلا لشکر کشی خود ان کی اپنی فوج کے تلف ہونے اور بھاری جنگی اخراجات کا باعث بنتی تھی۔ صنعتی انقلاب، نہر سویز کھلنے اور ریلوے کی ترقی کے بعد سامراجی ممالک نے دیگر ممالک کو مفتوحہ بنانے اور مقبوضہ رکھنے کیلئے نئے انداز اور طریقے وضع کئے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: ۱۔ ترقی پذیر ممالک کو امداد دےکر من مانی شرائط منوائی جائیں اور ان کے علاقوں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا جائے۔ ۲۔ دنیا بھر میں ایسا تعلیم یافتہ طبقہ تیار کیا جائے جو سامراجی پالیسیوں کا ہمنوا ہو۔ ۳۔ غیر ترقی یافتہ علاقوں میں اپنی منڈیاں قائم کی جائیں۔ ۴۔ جمہوریت اور آزادی کے نام پر دیگر ممالک میں اپنی فوجیں داخل کرکے وہاں کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی سیاسی و معاشی مفادات حاصل کئے جائیں۔ سامراجیت کے چوتھے طریقہ واردات یعنی جمہوریت و آزادی اور خوشحال و ترقی کے نام پر کسی ملک میں فوجیں داخل کرنے کے عمل کو سیاسیات میں استعماریت یا نو آبادیت کہتے ہیں۔ یعنی سامراجیت اصل ہے اور استعماریت اس کی ایک شاخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی سامراجی طاقتیں جن ممالک کو مفتوح کرتی تھیں اُنہیں ”نو آبادی“ کہا جاتا تھا۔ تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سامراجی قوتیں کچھ اس طرح کے بہانوں سے دیگر ممالک کو زیر تسلط لاتی تھیں کہ ترقی پذیر ممالک کے لوگ کاروبار حکومت چلانے نیز علمی و فنی پیشرفت کی صلاحیت نہیں رکھتے لہٰذا اُنہیں علوم و فنون سے آراستہ کرنے اور فلاح و بہبود کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے اور ان کی سیاسی فکر میں ارتقاءکیلئے ضروری ہے کہ انہیں مغلوب رکھ کر اُن پر کام کیا جائے۔ اس طرح کے لیبل لگا کر مختلف بہانوں سے طاقتور قومیں کمزور اقوام کا استحصال کرتی رہی ہیں بالآخر 1945ءمیں اقوام متحدہ نے اپنے منشور میں یہ شق شامل کی کہ کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کو اپنی نو آبادی نہیں بنائے گی لیکن اس کے باوجود سامراجی طاقتوں نے بعد ازاں کئی دوسری ریاستوں کو اپنی نو آبادی بنا یاہے۔ مثلاً ماضی قریب میں روس نے افغانستان کو اپنی نو آبادی بنانے کیلئے حملہ کردیا تھا اور تقریباً افغانستان کو اپنی نو آبادی بنا لیا تھا، بعد میں امریکہ نے افغانستان اور عراق کو غیر اعلانیہ طور پر اپنی نو آبادی بنالیا ہے اِسی طرح اسرائیل نے فلسطین اور لبنان کے بیشتر علاقے کو اور ہندوستان نے کشمیر کے ایک بڑے حصے کو اور روس نے چیکو سلاویہ، ہنگری اور بلغاریہ وغیرہ کو آج بھی اپنی نو آبادی بنا رکھا ہے۔ آج بھی دنیا میں بہت سارے ایسے ممالک موجود ہیں جو بظاہر سامراجی افواج سے خالی ہیں لیکن سامراج اُن پر مالی کمک، منڈیوں اور صنعتوں کے ذریعے قبضہ جمائے ہوئے ہے اور دنیا کے تمام تر سیاسی و معاشی مسائل سامراج کے ناجائز تسلط اور غیر قانونی قبضے کی وجہ سے ہیں۔ سامراجی طاقتوں نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے مختلف اقوام کو آج بھی دبوچ رکھاہے۔ مثلاً اگر فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائے تو سامراج، عربوں کی دولت کو نہیں لوٹ سکتا، اگر عراق و افغانستان کا مسئلہ حل ہوجائے تو مستکبرین اِس خطے کی دیگر ریاستوں کی نگرانی کرنے سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ عراق کے تیل سے بھی محروم ہوجائیں گے، اگر کشمیر سے بھارتی فوجیں نکل جائیں تو کشمیر کے آبی ذخائر، جنگلات اور معدنی ذخائر سے بھارت کو ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مذکورہ علاقوں میں سامراجی عناصر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انسانی خون کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ سامراجی طاقتوں نے اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی خاطر دنیا کو بدامنی اور عدم استحکام کی آگ میں جھونکا ہوا ہے۔ اگر دنیا میں امنیت بحال ہوجائے تو سامراجیوں کا جنگی ساز و سامان اور اسلحہ کس سیارے پر فروخت ہوگا چنانچہ سامراجی طاقتیں پوری دنیا میں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت اپنے مفادات حاصل کررہی ہیں۔ مثلا امریکہ اسرائیل کا حامی ہے ،اسرائیل بھارت کا،بھارت روس کا اور ۔۔۔یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا چلاجارہاہے۔یہاں تک کہ سامراجی طاقتوں نے اپنے معاشی مفادات کیلئے ایڈز، ہیپاٹائٹس اور امریکی سونڈی کے وائرس تک دنیا م