24 مئی 2011 - 19:30

سعودی عرب کے وہابی مفتی نے گاڑی چلانے والی عورتوں کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گاڑي چلانے والی عورتوں کو مر جانا چاہیے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا یہ عورتیں منکرات کے درپے ہیں اور وہ ڈرائیور بن کر سعودی عرب میں فساد پھیلائیں گی۔العالم کی رپورٹ کے مطابق وہابی مفتی نے کہا کہ یہ عورتیں سعودی عرب کو مغربی تہذیب کا گہوارہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں اور ان کا یہ عمل "منکرات" کے زمرے میں آتا ہے اور عورتوں کی ڈرائیونگ سعودی عرب کے لئے شر اور بدی کا آغاز ثابت ہوگی۔ انھوں نے ڈرائیونگ کی شوقین عورتوں کے ساتھ بدنام زمانہ سعودی فورس "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس" کے برتاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ہی جیسی عورتوں نے کئی عشرے قبل بھی عورتوں کی ڈرائیونگ عام کرنے کی کوشش کی تھی جن میں سے کئی تو مر گئیں اور ہماری آرزو ہے کہ یہ عورتیں بھی مرجائیں کیونکہ ایسی عورتوں کو مر ہی جانا چاہئے۔ البراک نے اس سے قبل فتوی دیا تھا کہ کعبہ کو منہدم کیا جائے تا کہ مردوں اور عورتوں کے اختلاط کا سد باب کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا جو عورتیں 17 جون کو ملک میں ڈرائیونگ کرنا چاہتی ہیں انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس کا سامنا کرنا پڑے گا۔دریں اثناء حال ہی میں الخُبَر میں ڈرائیونگ کرنے والی ایک خاتون کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جو ابھی تک جیل میں ہے۔سعودی قوانین میں عورتوں کی ڈرائیونگ پر کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن معاشرتی طور پر ایک غیر مکتوب قانون نافذ ہے جو عورتوں کو ڈرائیونگ سے منع کرتا ہے۔ البراک کے بعض سابقہ فتوے:عبد الرحمن البراک: عورتوں کو عورتوں کو عورتوں سے بھی پردہ کرنا چاہئےانھوں نے ان مفتیوں کو کافر قرار دیا تھا جنہوں نے فتوی دیا تھا کہ "اگر مرد اور عورت کا اختلاط گناہ میں پڑنے کا سبب نہ بنے تو جائز ہے"۔انھوں نے 2008 میں روزنامہ نویسوں کو شیطان قرار دیا اور دو روزنامہ نویسوں «عبداللہ بن بجاد العتيبي» اور «يوسف ابالخيل» کو کافر قرار دے کر مطالبہ کیا تھا کہ ان افراد پر ارتداد کے الزام میں مقدمہ چلنا چاہئے جس پر حتی کہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بھی سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110