اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یاہو ویب سائٹ دنیا کی سب سے بڑی پورٹل ہے اور صارفین کے لحاظ سے دوسری بڑی ویب سائٹ سمجھی جاتی ہے۔ یہ ویب سائٹ سنگل لینگویج کی قید سے نکل کر اب دو لسانی (دو زبانی Bilingual) ہوگئی ہے اور اس نے مکتوب ویب سائٹ کے عوض دس کروڑ ڈالر ادا کئے ہیں اور مکتوب کو ہی یاہو کے عربی ورژن کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یادرہے کہ مغربی ایشیا کے عرب ممالک میں انقلاب کے آثار نمودار ہوئے اور معلوم ہوا کہ سماجی نیٹ ورکس ان انقلابات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں تو سعودی بادشاہ نے سخت بیماری کی حالت میں بھی اس مسئلے کی طرف خاص توجہ مبذول کردی اور اپنی حکومت کو حکم دیا کہ فیس بک کو فوری طور پر خرید لیں چنانچہ بیچارے عربوں کے تیل کی دولت سے سعودی شاہزادوں نے ڈیڑھ کھرب (پندرہ ہزار میلین یا ڈیرھ کھرب یا 150 ارب) ڈالر قیمت دی لیکن فیس بک والوں نے انکار کیا تھا۔ یہ خبر فروری کے آخری دنوں میں شائع ہوئی اور امریکی ویب سائٹ "ڈان وائرز (dawnwires.com) نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی بادشاہ نے انقلاب سے بچنے اور فیس بک کو اپنے قابو میں لانے کے لئے اتنی بڑی رقم کی پیشکش کرکے اسی خریدنے کی کوشش کی تھی البتہ بعض اڑتی اطلاعات سے معلوم ہوا تھا کہ گویا فیس بک کے مالک نے 500 ارب ڈالر مانگے تھے لیکن آل سعود کی بادشاہ اور وہابی وعاظ السلاطین کو یاہو نے گود لے لیا اور مکتوب ویب سائٹ یاہو کا حصہ بن گئی جس میں عرصہ دراز سے وہابی تعلیمات بھر دی گئی ہیں اور البتہ اس میں مادر پدر آزادی کی تربیت بھی دی جار ہی ہے اب ہمیں خود ہی معلوم کرنا پڑے گا کہ وہابیت اور مغربی بے تہذیبی کے درمیان یہ پیوند کیونکر ممکن تھا؟ یاہو کو مکتوب کی خریداری کے بعد ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوا ہے کہ اس کے اپنے دعوے کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد بارہ کروڑ نفوس پر مشتمل ہیں اور مکتوب کے 16 کروڑ مزید صارفین بھی یاہو کے صارفین سمجھے جائیں گے اور یاہو انگریزی کے صارفین میں موجود عرب باشندے بھی اس کا حصہ بن سکیں گے۔دیکھتے ہیں یاہو کا یہ نیا ورژن (مکتوب) عربی ورژن ہے یا صہیونی - وہابی ورژن؟ یاہو کا عربی ورژن یا وہی مکتوب یاہو انگریزی کی مانند پورٹل ہی ہے جس میں صارف کی ضروریات کی تمام چیزین پائی جاتی ہیں: ایمیل، خبرین، چیٹ رومز، تجارت و معیشت، سیاحت اور ٹورزم، (خاص طور پر عرب ممالک میں)، اسلامی مسائل، "حلال لڑکی یا "بنت الحلال" کے عنوان سے عرب مسلمانوں کے لئے انترنیٹی شادی، ٹین ایجرز، "الحلوہ (شیرین یا میٹھا)" کے عنوان سے عورتوں کی دنیا، ورزش، تصاویر، آرت، فلم اور میوزک اسٹارز، ویڈیو، میسنجر، فورمز اور انٹرنیٹ سوسائٹیز نیز دیگر حصے اور دیگر ویب سائٹس، مکتوب کے مشہور پیجز ہیں جن میں برسہا برس سے دونوں قسم کا مواد بھر دیا گیا ہے اور اب ڈیٹا اور سہولیات یاہو کے صارفین کو پیش کی گئی ہیں۔فکرمندی کیوں؟مکتوب کی یاہو میں موجودگی اس لئے عالم اسلام کے درمندوں اور دلسوز حلقوں کی فکرمندی اور تشویش کا باعث بنی ہے کہ اولاً یہ سائٹ خاص طور پر مسلم نوجوانوں کے درمیان دین و اخلاق سے دوری کی ترویج کررہی ہے۔ اس ویب سائٹ میں آرٹ، موسیقی، اسٹارز، چیٹ رومز، بنت الحلال، فلمیں، اور دیگر حصے اسلامی عفت سے عاری مواد سے بھرے پڑے ہیں۔ یاہو اپنی مقبولیت کے لئے اب ان مسائل کا سہارا لے رہا ہے اور دین کے حوالے سے جو باتیں عربی ورژن میں لائی گئی ہیں وہ زیادہ قابل توجہ ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ویب سائٹ فلسطین اور مشرق وسطی کے انقلابات کو مغرب اور آل سعود کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس کی کوشش ہے کی عرب دنیا کی رائے عامہ کو ناجائز اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ کرے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک نے متعدد سروے رپورٹس سے اس حقیقت کا ادراک کرلیا ہے کہ عرب دنیا کی اکثریت اسرائیل کو اب بھی اپنا دشمن نمبر ایک سمجھتی ہے۔ یاہو اور اس کے عربی ورژن یا صہیونی ـ وہابی ورژن کی کوشش ہے کہ عرب اور مسلم عوام کی سوچ کے لئے اپنی مرضی کی سمت کا تعین کرے۔تیسرا اور سب سے اہم مسئلہ جو سب سے زیادہ تشویشناک بھی ہے "عربی یاہو کا "اسلام پیج" ہے۔ اس پیج پر وہابی اور سلفی افکار کو اسلام کے بنیادی عقائد کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے اورکیا خوب ہے کہ ایک طرف سے وہابیت دنیا بھر میں دہشت گردی کی علامت سمجھی جاتی ہے اور مغربی دنیا میں بھی اس بات کو پوری طرح تسلیم کیا گیا ہے اور دوسری طرف سے یاہو جیسی ویب سائٹ اسی اسلام کو فروغ دینے کے درپے ہے! جس کی ایک وجہ ـ جو راقم کو سمجھ میں آئی ہے ـ یہ ہوسکتی ہے کہ گو کہ وہابیت دنیا میں دہشت گردی کی علامت ہے لیکن دہشت گردی کا فائدہ بھی تو مغرب کو ملتا ہے اور پھر یہی سوچ دنیا بھر میں اسلام کی جگ ہنسائی کا باعث بھی ہے اور دنیائے مغرب میں اسلام فوبیا اور اسلام، نبی اکرم (ص)، قرآن مجید اور بیت اللہ الحرام کی توہین کا سبب بھی بنتی ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ یاہو یا مکتوب یا یاہو کی عربی یا وہابی ـ صہیونی ورژن میں اہل تشیع اور اہل سنت کو دو اہم اسلامی مکاتب کے عنوان سے مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، مکتب اہل بیت (ع) کو فراموش کیا گیا ہے۔ اس پیج پر سلفیت اور وہابیت کے فقہی، کلامی، اعتقادی مسائل کو اسلامی مسائل کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے اور ان ہی نظریات و مسائل کو اسلام کے اصلی اور بنیادی مسائل کے عنوان سے متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پیج پر سوال اور جواب کی سہولت بھی موجود ہے لیکن سوال کرنے والے کا جواب اس کے اپنے عقیدے کے مطابق نہیں دیا جاتا بلکہ جعلی وہابی نظریئے کے مطابق جواب دیا جاتا ہے اور اسلام کو وہابیت کے سرغنوں کے نظریات میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔یاہو کے وہابی ورژن کے "اسلام پیج" کے بعض نمونے:قرآن کریمتجوید اور قرائت قرآن، مشہور عرب اور بین الاقوامی قراء کے ویڈیوز، اور قرآن مجید کی صرف خاص خاص تفاسیر جو وہابیت کی منظور نظر ہیں۔ الحج و العمرہاس پیج میں وہ سب کچھ ہے جو وہابیون کی نظر میں ایک مسلمان کو جاننا چاہئی۔ تعبیر و تفسیر خواب(!)یاہو کے وہابی ورژن میں تفسیر و تعبیر خواب کا پیج بھی ہے جو صارف کے خواب کی نوعیت کے پیش نظر خواب کی تعبیر (!) پیش کرتا ہے۔اہم؛ اسلامی شخصیات و اکابرین اس پیح پر خاص طور پر واضح ہوتا ہے کہ یاہو کا عربی ورژن در حقیقت وہابی ورژن ہے۔ اس پیج پر مسلمانوں کے عقائد منہدم کرنے کی نہایت بھونڈی سازش کی گئی ہے۔ اس پیج پر بعض ایسے نام اکابرین امت کے عنوان سے درج کئے گئے ہیں جو مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے نزدیک نہایت قابل نفرت ہیں۔ عجیب یہ کہ انگریز جاسوسوں کی مدد سے وہابیت کے گمراہ فرقے کے بانی محمد بن عبدالوہاب کو عالم اسلام کی تیسری شخصیت کے عنوان سے سامنے لایا گیا ہے۔ خونریز تکفیری وہابیت کے بانی کو حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) پر مقدم رکھا گیا ہے۔اس پیج میں، جنگ احد میں مسلمانوں پر پشت سے حملہ کرنے اور مسلمانوں کی فتح کو شکست میں تبدیل کرنے والے نیز رسول اللہ (ص) کے وصال کے بعد مسلمان صحابی مالک بن نویرہ کو قتل کرکے ان کی مسلمان زوجہ کے ساتھ اسی رات ہمبستری کرنے والے "خالد بن ولید،، امویوں کے خونخوار اور ہزاروں مسلمانون کے قاتل اور دشمن اہل بیت (ع) گورنر حجاج بن یوسف، اہل تشیع کے قسم خوردہ دشمنوں الالبانی اور بن باز کو مسلم دنیا کے پائے کی شخصیات کی طور پر متعارف کروایا گیا ہے اور ان کے لئے اتنی شدید عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں اتنا بڑا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تاریخ سے واقف اور ان لوگوں کی خباثت سے آگاہ افراد یہ سب دیکھ کر یقینی طور پر حیرت زدہ ہوجاتے ہیں اور سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ عالمی صہیونی لابی وہابیت کے اتنی قریب کیسے ہوئی ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہابیت اور صہیونیت ایک ہی مقصد کے لئے لڑ رہی ہیں اور وہ ہے اسلام کی نابودی، دشمنان اسلام کے مفادات کا تحفظ اور اسلامی بیداری کا گلا گھونٹنا و۔۔۔مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہابیوں نے اس بار لبرلزم کے پجاری عرب سرمایہ داروں اور صہیونی و یہودی حلقوں نیز امریکہ کی سرمایہ داری مافیا کے مدد سے سائبر کے ماحول پر قبضہ کرنے کے لئے بڑا قدم اٹھایا ہے اور اس طرح مسلمانان عالم کے عقائد پر شدید ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یاہو اور مکتوب کا ملاپ در حقیقت مغرب اور وہابیت کے پرانی عہد و پیمان کا تسلسل ہے جو صحیح اسلامی عقائد کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جس کے لئے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اقدام کرنا پڑے گا۔ یاہو کو مسلسل ایمیلز اور میسجز بھیج کر بھی اس مسئلے کو abuse کے طور پر یاہو کے بڑے بڑوں کو سمجھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز
بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت
