ابنا: سعودی عرب کی جیلوں میں ہزاروں افراد قید ہیں جنہیں بغیر مقدمے کے جیلوں میں رکھا گيا ہے۔ سعودی عرب میں خاندانی اور موروثی حکومت قائم ہے اور اسی بنا پر وہ کسی بھی طرح کی سیاسی آزادی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ بات اگر یہیں تک ہوتی تو اسے آل سعود کی حکومت اور عوام کا داخلی معاملہ قراردے کر دبایا جاسکتا تھا، لیکن المیہ یہ ہے کہ آل سعود کا شاہی خاندان اس خطے کی دیگر ڈکٹیٹر حکومتوں اور حکمرانوں کو بھی مکمل طور سے سپورٹ کرتا ہے۔تیونس کے ڈکٹیٹر علی بن زین العابدین کو جس انداز میں سعودی شاہی خاندان نے بڑھ کر گلے لگایا اور جس طرح اس نے کھل کر فرعون مصر حسنی مبارک کی حمایت کی اور اب وہ جس طرح بحرین میں شاہی نظام حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی فوجوں کے ذریعے وہاں کے نہتے عوام کا قتل عام کر رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے خطے میں ڈکٹیٹر شپ اور آمریت کے خاتمے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ سعودی شاہی خاندان ہے۔البتہ خطے کے دیگر آمروں کو بچانے کے لئے سعودی عرب کی کوششیں ایک ایسے وقت عمل میں لائی جارہی ہیں کہ خود آل سعود کو اپنے ہاں سخت عوامی مخالفتوں کا سامنا ہے۔مبصرین کے بقول آل سعود کی حکومت ـ جو علاقے کی سب سے زیادہ قدامت پسندحکومت ہے اور جہاں عوام سخت گھٹن کے ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں ـ اب اس وقت عوامی انقلاب کے نرغے میں ہے ۔سعودی عرب کے مختلف علاقوں منجملہ مشرقی شہروں میں عوامی مظاہروں سے اب یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ علاقے میں عوامی انقلاب کی جو تحریکیں جاری ہیں ان کے آفٹر شاک یا بعد میں آنے والے جھٹکے سعودی حکام کو پوری طرح جھنجھوڑ رہے ہيں۔ سعودی عرب میں تفریق اور امتیازی سلوک عام ہے اور اس صورتحال نے سعودی باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے جس کی وجہ سے عوام کی صورتحال دھماکہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ آل سعود کے ایوانوں میں اس وقت سب سے زیادہ خوف اس بات کا پایا جارہا ہے کہ کہيں مشرقی علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ملک کے دوسرے علاقوں تک نہ پھیل جائے۔ بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرین اور یمن جیسے پڑوسی ملکوں میں عوامی انقلاب کو کچلنے کے سلسلے میں سعودی عرب کی کوشش اس لئے بھی تیزی سے جاری ہے کہ کہیں عوامی انقلاب کی یہ لہر آل سعود کی حکومت کو بھی نہ بہا لے جائے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ علاقے میں اسلامی اور عوامی بیداری کی پیدا ہونے والی لہر جلد یا بدیر عرب دنیا کی اس سب سے قدامت پسند حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گی۔ اس وقت سعودی عرب کے شہریوں کا سب سے اہم مطالبہ یہی ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات رو بہ عمل لائي جائيں لیکن اس میں شک نہيں کہ سعودی عرب میں اصلاح پسندی کی تحریک کی تقویت اور عوامی مطالبات کے دائرے کے پھیل جانے کی صورت میں اس ملک میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہوگی۔کہتے ہیں کہ سعودی فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز نے صدر بارک اوبا سے اس بات پر شدید گلہ کیا ہے کہ امریکہ نے حسنی مبارک کی سو فیصد حمایت کیوں نہیں کی اسی بنا پر بعض مبصرین حسنی مبارک کی اقتدار سے برطرفی کو سعودی عرب کی شکست قرار دیتے ہیں۔تا ہم تیونس اور مصر کے تجربے کے پیش نظر سعودی عرب نے بحرین کے معاملے میں امریکیوں سے گفتگو پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی فوج بھیج کر بحرین کے شاہی خاندان کی آمریت کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔بہر حال اب دیکھنا یہ کہ علاقے کی عوامی اور اسلامی تحریکوں کو روکنے کے لئے سعود شاہی خاندان کتنا زور لگاتا ہے اور کیا اس میں اتنا دم خم ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے ساتھ ساتھ علاقے کے دیگر آمروں کے اقتدار کو محفوظ رکھ سکے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز