9 مئی 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد نےاستانبول میں کم ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس میں جواقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون کی موجودگی میں منعقد ہوئی،دنیامیں کمترترقی کےعلل واسباب کاجائزہ لیا۔

ابنا: صدرمملکت نےاپنےتجزیےمیں غریب ممالک کی غریبی کےاسباب کاجائزہ لیتےہوئےکہاکہ اگرچہ ممکن ہے اس قسم کےممالک کی غریبی کےاسباب،مینجمنٹ کےشعبےمیں نقائص ہوں لیکن دیکھنایہ ہےکہ یہ کمزورڈھانچہ کس دورکی میراث ہے۔تاریخ سےثابت ہوتاہےکہ اکثرافریقی ، لاطینی امریکہ اور ایشیائی ممالک پرسامراج کاتقریباچارسوبرسوں تک تسلط یہ وہ اسباب ہیں جوسامراج کی غلامی جیسےانسانیت دشمن مسائل کےوجود میں آنےپرمنتج ہوئےہیں۔ٹھیک اسی زمانےمیں ان ممالک کےقدرتی ذخائرکی وسیع پیمانےپرلوٹ گھسوٹ ہوئی اوران سےتعمیروترقی کےمواقع چھین لئےگئے۔موجودہ دور میں بھی وہی سامراجی طرزفکررائج ہےبس فرق صرف یہ ہےکہ اس ميں مزیدپیچیدگی آگئی ہے اوروہ وسیع پیمانےپرسیاسی اورفوجی مداخلتوں کےذریعے دنیاکی بہت سےقوموں کےانجام پرخودکومسلط کرنےکی کوشش کررہے ہیں، ایک ایسی دنیاجسے کم ترقی یافتہ ممالک کےنام سےیاد کیاجاتاہے۔صدرمملکت کےبقول ایسانظرآتاہےکہ دنیاکےایک حصے کی تقدیرکافیصلہ اس طرح کیاگیاہےکہ وہ ہمیشہ پیچھےرہیں تاکہ ان کےقدرتی ذخائرکی لوٹ گھسوٹ کےمواقع اورماضی کےبردہ داروں اورآج کےانسانی حقوق کےحامیوں کی پیشرفت وترقی کی زمین ہموار رہے۔انھیں حقائق کےپیش نظر،صدرمملکت نےاستنبول اجلاس میں اپنےخطاب میں، غیرسرمایہ دارانہ نظام کےبلاک سےالگ اورخودمختارملکوں سےتشکیل یافتہ ایک مضبوط ادارےکی تشکیل کی تجویزپیش کی ہےتاکہ توسیع پسندحکومتوں کےخزانوں اورسینٹرل بینکوں کےکاغذی خزانوں پرپوری نظررکھی جاسکےاوران کاغذی خزانوں کےپھیلاؤ کوروکاجاسکے۔صدرمملکت کی یہ تجویز عالمی معیشت پرامریکی مالی پالیسی کےمسلط ہونے اوربغیرکسی گارنٹی کےڈالروں کےپھیلاؤ کےسبب پیداہونےوالےمسائل کی جانب اشارہ ہے۔لیکن کیوں اورکب تک قومیں پسماندگی کاشکار رہیں گی تاکہ دوسرے ترقی کریں، اس کاتعلق بین الاقوامی تعلقات سےہے۔ کیونکہ جب تک دنیاپرمسلط نظام کیقوموں اورانصاف کےحق میں اصلاح نہيں ہوگي اس وقت تک دوسری قوموں اورحکومتوں کےحق میں چند حکومتوں کےیک طرفہ سیاسی اوراقتصادی رابطےتبدیل نہيں ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169