ابنا: مولوی احسان اللہ احسان نے حکومت کے خلاف کاروائی کرنے کا یہ دعوی ایک ایسے وقت کیا ہے کہ خود کش دھماکوں میں مرنے والے سب کے سب عام شہری ہیں ۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مرنے والوںکی تعداد 50 ہوگئی ہے ۔جنگ آن لائن کے مطابق ان دھماکوں 8 خواتین اور 5 بچوں سمیت 46 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو ئے ہیں کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔واضح رھے کہ صوبہ پنجاب کے شہرڈیرہ غازی خان کی تحصیل سخی سرور میں حضرت سید احمد سلطان سخی سرور کے سالانہ عرس کے موقع پر لوگوں کا ہجوم تھا کہ یکے بعد دیگرے دو خودکش دھماکے ہوئے ۔حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے دو خود کش حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا، حملہ آوروں سے خود کش جیکٹ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد قیامت صغریٰ کا منظر تھاہر طرف خون میں لت پت لاشیں اور چیتھڑے بکھرے پڑے تھے۔دھماکوں کے بعد علاقے کی بجلی منقطع ہونے اور ایمبولینس گاڑیوں کی کمی کے باعث زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس سے بیشتر زخمی راستے میں دم توڑ گئے۔کالعدم دہشت گرد تنظیم طالبان صوفیائے کرام کے مزارات کی تعمیر، زیارت اور عرس کو سعودی عرب کی طرح شرک اور بت پرستی قرار دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110
3 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 234855
کالعدم دہشت گرد تنظیم طالبان کے ایک ترجمان مولوی احسان اللہ احسان نے ڈیرہ غازیخان میں ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ہم حکومت کیخلاف اور بھی جوابی کارروائیاں کرینگے جو شمال مغربی علاقوں میں ہمارے خلاف آپریشن کررہی ہے۔