اہل الببت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی پارلیمان کے نائب بحرینی عوام کے قتل عام اور بیرونی افواج کو عوام کی سرکوبی کے لئے بیرونی افواج کو بلائے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کے نائب سربراہ خلیل المرزوق نے بھی استعفی دیا ہے جبکہ اس سے قبل وزیر صحت اور آل خلیفہ کے بادشاہ کے مشیر اور ججوں نے بھی استعفے دیئے ہیں۔ خلیل المرزوق نے العالم ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے بحرینی حکومت کی طرف سے عوام کو کچلنے اور بیرونی افواج کی جارحیت کے سامنے اپنے استعفے کو ایک مناسب جواب قرار دیا اور کہا کہ بحرینی اور سعودی افواج لوگوں کو طبی امداد نہیں پہنچنے دیتیں اور ہسپتالوں پر فوجیوں کا قبضہ ہے اور زخمیوں کو اسپتالوں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے ملک میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عوامی اجتماعات کو کچل دے گی۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ اور آل سعود ان وحشیانہ اقدامات کے باوجود بحرینی عوام کو اپنے جائز اور قانونی مطالبات کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکیں گے۔ دریں اثناء بادشاہ کے مشیر "الستری" نے بھی ان ہی وجوہات کی بنا پر استعفی دیا ہے جبکہ عدالتوں کے 12 ججوں، ادارة المصرف المرکزی کے نائب سربراہ اور وزیر صحت نے بھی اسعفے دیئے ہیں۔
اپڈیٹ:
پارلیمان کے دو سنی اراکین نے بھی آل خلیفہ اور آل سعود کے ظالمانہ اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے استعفے دیئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110