11 مارچ 2011 - 20:30

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کی جانب سے ایران کے بارے میں رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد آئی اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ویانا میں ایک بیان جاری کر کے بورڈ آف گورنرز میں سیاسی محرکات کے ساتھ ہونے والی بحثوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ابنا: حالیہ چند برسوں کے دوران کہ جب ایران کا ایٹمی مسئلہ ایران کے خلاف مغرب کی ہنگامہ آرائی کے لیے ایک بہانے مین تبدیل ہو گيا ہے، آئی اے ای اے نے متعدد بار اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ یورینیم کی افزودگي سمیت ایران کی ایٹمی سرگرمیاں آئی اے ای اے کی مکمل نگرانی میں رہی ہیں اور ان میں فوجی مقاصد کی جانب کوئي انحراف نہیں پایا گیا ہے۔ یوکیا امانو کی رپورٹ میں سینٹری فیوج مشینوں کے کام کی چھوٹی سے چھوٹی تفصلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ امر آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کے تعاون کی عکاسی کرتا ہے اور آئی اے ای اے کی اب تک چھبیس رپورٹوں میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کا انحراف نہیں پایا گيا ہے۔ این پی ٹی کے آرٹیکل چار کے مطابق پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کے افزودگي سمیت پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول این پی ٹی کے تمام رکن ملکوں کا حق ہے اور ایران بھی این پی ٹی کا ایک ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے اس حق سے مستثنی نہیں ہے اور وہ اپنے حقوق کے بارے میں امتیازی رویہ قبول نہیں کرے گا۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے جیسا کہ اپنی گزشتہ رپورٹ میں بھی ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد انیس سو انتیس کو معیار قرار دیا، وہ اپنی تازہ رپورٹ میں بھی مغرب کے سیاسی مقاصد اور پروپیگنڈے سے متاثر نظر آتے ہیں۔ جب کہ ایران نے تین سال قبل آئی اے ای اے کی جانب سے اٹھائے جانے والے چھ اصلی سوالوں کے جوابات دے دیے تھے اور ایجنسی نے بھی باضابطہ طور پر اعلان کر دیا تھا کہ اسے اپنے تمام سوالوں کے جوابات مل گئے ہیں۔ آئی اے ای اے ایسے حالات میں ایران کے بارے میں مبہم اور دو رخی باتیں دہرا رہی ہے کہ جب یہ ایجنسی دوسرے ملکوں خاص طور پر ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک یا جاپان سمیت این پی ٹی کے دیگر رکن ملکوں میں یورینیم کی افزودگي کے بارے میں فنی اطلاعات اپنی رپورٹوں میں بیان نہیں کرتی ہے۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ایٹمی ترک اسلحہ کے سلسلے میں بھی امریکہ اور یورپی ممالک کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہے۔ این پی ٹی کے اضافی پروٹوکول میں بھی آئی اے ای اے کو اس بات کا پابند کیا گيا ہے کہ وہ اسرائیل کی غیرروایتی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرے لیکن ابھی تک اس پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یویکا امانو کے نام ایک خط میں امریکہ کی این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یورپ کی سرزمین پر ایٹمی ہتھیار نصب کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی کھلی خلاف ورزی کا جلد سے جلد نوٹس لیا جائے ، آئی اے ای اے ان ہتھیاروں کی تنصیب کے مقام کا جائزہ لے اور فنی لحاظ سے ایک مکمل رپورٹ پیش کرے۔

ابنا اس ایڈریس پر بھی دستیاب ہے:

www.abna.co

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110