ابنا: ایران کے تعلق سے امریکہ نے ہمیشہ مداخلت پسندانہ پالیسیوں پرعمل کیا ہے اور امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی اس پالیسی کی منظوری دی ہے۔ انیس سو ترپن میں امریکہ کی فوجی بغاوت اس کی ایک مثال ہے۔ اس کے بعد جب ایران کے انقلابی عوام کی اسلامی تحریک کو کچلنے کے لئے شاہ امریکہ کے احکام پر پوری طرح عمل کررہاتھا اور بڑے وحشیانہ طریقے سے عوام کا خون بہارہاتھا اس وقت کے امریکی صدر کارٹر نے شاہ کو فون کرکے امریکہ کی دوستی اور حمایت کا یقین دلایا اور نہتے عوام کے قتل عام پر اسے شاباشی دی اور اس کے لئے امریکہ کے فرامین پر عمل کرنے میں کامیابی کی خواہش ظاہر کی۔ کارٹر کے وزیرخارجہ نے ان باتوں کاجواز پیش کرتےہوئے کہا تھا کہ امریکی مفادات کا تقاضہ تھا کہ ہم شاہ کی حمایت کرتے ۔ امریکہ نے گذشتہ ایک برس میں بھی اسی پالیسی پرعمل کیا ہے اور مختلف اقدامات جیسے پابندیاں، حملوں کی دھمکیاں، نرم جنگ، دوہزار نو کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والوں بلووں کی حمایت یہانتک کہ ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ سے بھی ملت ایران کے خلاف دشمنی کی ۔ جو چیز واضح ہے وہ یہ ہےکہ امریکہ کو انسانی حقوق کی کوئي فکر لاحق نہیں ہے بلکہ امریکہ بری طرح علاقائي قوموں کی اسلامی بیداری سے خائف ہے جس کے نمونے ہم ان ہی دنوں علاقے کے کئي ملکوں کے ڈکٹیٹیروں اور پٹھو حکومتوں کے خلاف عوام کے عظیم مظاہروں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ جو علاقے میں تمام مسائل کی جڑ ہے جھوٹے دعووں کے ساتھ خود کو آزادی اور انسانی حقوق کا حامی ظاہرکرنا چاہتاہے۔ اب دنیا امریکہ کے ان جھوٹے دعووں کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے اور جانتی ہےکہ امریکہ ، گوانتانامو اور ابو غریب جیلوں میں انسانیت کے خلاف دحشت و تشدد کا ننگا ناچ ناچ کر، عراق و افغانستان میں لاکھوں افراد کا قتل عام کرکے ، غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کے انسانیت سوز حملوں کی حمایت کرکے اور صیہونی حکومت کے خلاف قرار داد کوویٹو کرکے اب اگرانسانی حقوق کی بات کرتاہے تو یہ انسانی اقدار کا مذاق اڑانے کےعلاوہ اور کچھ نہیں ہے۔......./110
27 فروری 2011 - 20:30
News ID: 228731
امریکی وزیرخارجہ نے ایک بار پھر ایران میں بلووں کی حمایت کی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہائٹ ہاوس کو ایران میں بعض افراد پرمقدمہ چلائے جانے پر شدید تشویش لاحق ہے اور دنیا والوں پر ظاہر ہوچکا ہےکہ ایران اپنے شہریوں کے حقوق نظرانداز کررہا ہے!۔ امریکی وزیرخارجہ کے بیان میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ بلووں کے ذمہ دارافراد ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ کے بیان میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایران پر متعدد الزامات لگائے گئےہیں ۔ اس میں کہا گيا ہےکہ ایران مذھبی اور نسلی اقلیتوں کے حقوق پامال کررہا ہے اور سیاسی اور مذھبی رہنماوں ، طلبا، اور صحافیوں کو سرگرمیوں سے روکتا ہے۔ امریکہ کے یہ ا لزام ایسے عالم میں سامنے آرہےہيں کہ اس نے مزید دو ایرانی عھدیداروں پرپابندیاں لگادی ہیں۔