26 فروری 2011 - 20:30

لیبیا کے ڈکٹیٹر قذافی کے سر پر اپنے عوام کے قتل عام کا بھوت سوار ہے دریں اثناء اس کے ان جنون آمیز اقدامات پر عالمی سطح پر تنقید کی جارہی ہے ۔

ابنا: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قذافی کو جنگی مجرم قرار دے کر اس کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلاۓ۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کے سیکرٹری جنرل سلیل شتی نے کہا ہےکہ قذافی اور اس کے ٹولے کو جان لینا چاہۓ کہ ان کو اپنے مظالم کا جواب دینا اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کمیشن کی ترجمان کیتھرین ایشٹون نے بھی یورپی یونین کی جانب سے قذافی کے خلاف ہمہ گیر پابندیاں لگاۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی لیبیا کی تازہ صورتحال اور قذافی کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کا جائزہ لینے کے لۓ ایک بار پھر اجلاس بلانے والی ہے۔ لیبیا میں وسیع پیمانے پر ہونے والے قتل عام کی وجہ سے قذافی کو شدید تنقید کا سامنا ہے ۔ یورپ اور امریکہ اگرچہ لیبیا کےتیل کو للچائي ہوئي نظروں سے دیکھ رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قذافی نے اپنے ملک کے عوام پرجو مظالم ڈھاۓ ہیں ان کی مثال حتی قذافی کے یورپی حامیوں کو بھی اس سے پہلے دکھائي نہیں دیتی ہے۔ چند دنوں کے اندر اندر ایک ہزار سے زیادہ افراد کا قتل بلاشبہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے جس کا ارتکاب لیبیا کے ڈکٹیٹر نے کیا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین ایشٹون نے لیبیا کے عوام کے قتل عام کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ اس بات پر زور دیا ہےکہ قذافی کو پابندیوں کے زمانے میں واپس پلٹا دینا چاہۓ۔ یورپی یونین نے جمعہ کے دن قذافی اور اس کے خاندان کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی لیبیا کے حکام کے غیر ملکی سفر پر پابندی اور ان کے اثاثے منجمد کۓ جانے کے سلسلے میں ایک قرار داد منظور کی ہے۔ قذافی پر ایسی حالت میں عالمی دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ جب لیبیا کے عوام کی پیش قدمی کی خبریں آرہی ہیں ۔ لیبیا کا تیسرا بڑا شہر مصراتہ بھی حکومت کے کنٹرول سے نکل چکا ہے۔ انقلابیوں نے طرابلس کے مشرق میں واقع خمس شہر پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ دارالحکومت طرابلس کے بہت سے حصوں پر بھی عوام کا کنٹرول ہے جبکہ فوج کا بہت بڑا حصہ بھی انقلابیوں سے مل چکا ہے اوریہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ قذافی چار عشروں پر محیط اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لۓ ہر حربہ استعمال کررہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت لیبیا کے ڈکٹیٹر کی حکومت اختلافات کا شکارہوچکی ہے ۔ قذافی کو اپنا اقتدار ہاتھ سےجاتاہوا صاف نظر آرہا ہے۔ اس لۓاس نے لیبیا کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلنی شروع کردی ہے۔ دریں اثناء شیخ الازہر نے لیبیا کے ڈکٹیٹر کے اقدامات کی مذمت کرتےہوۓ لیبیا کے فوجیوں اور حکام سے کہا ہے کہ وہ قذافی کے احکامات پرعمل نہ کریں۔ لیبیا کی اسلام پسند پارٹی تحریر نے بھی عوام سے اپیل کی ہےکہ وہ پوری طاقت کے ساتھ اس وقت تک اپنے راستے پر گامزن رہیں جب تک قذافی اور اس کے بیٹوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک نہیں دیا جاتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110