اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے ملک میں عوام تحریک کا باعث بننے والی سرکاری کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں ایسے طوفان کا آغاز ہوا ہے جو تھمے گا نہیں۔ انھوں نے کہا: جو کچھ آج قوموں کو نہیں دیا جاتا یہی قومیں بعد میں اٹھ کر قربانیاں دے کر اس سے کئی گنا زیادہ چھین کر دم لیتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ بحرینی قوم کے بنیادی مطالبات میں آئین پر عملدرآمد، بےگناہ قیدیوں کی رہائی، ملزموں اور مجرموں سے کھلی بیزاری اور بدعنوانیوں کا فوری ازالہ شامل ہیں جبکہ تأخیر نقصان کا باعث ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملک میں برائیوں کا راستہ نہ روکا گیا تو ایسا دن بھی آئے گا جب بحرین میں کفر اسلام پر بھاری ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے گوشے گوشے سے ناچ گانے والے مردوں اور عورتوں کو بحرینی قومیت دی جا رہی ہے اور انہیں قومی شناختی کارڈ دیئے جارہے ہیں اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی ملک سے آنے والی برائیوں کا پرچار کرنے والے افراد کو "ثقافتی کثرت پسندی" کے نام سے شناختی کارڈ دیئے جارہے ہیں جبکہ یہ ایک نہایت ہولناک بیرونی ثقافتی سازش کا حصہ ہے اور اگر قوم خاموش رہی تو یہ صورت حال بد سے بدتر ہوتی جائے گی جبکہ اس کا واحد حل اسلامی بیداری ہے۔انھوں نے معاشرے میں اسلام کی معرفت اور خالص دینی مفاہیم و معارف سے آگہی اوران کی ترویج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں اپنی پوری قوت سے دینی تعلیمات اپنی انفرادی اور معاشرتی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے اور بحرین کو منکرات اور برائیوں سے پاک کرنے اور اسلام مخالف مظاہر کو مٹانے کے لئے مجاہدت اور مزاحمت کا راستہ اپنانا پڑے گا۔قابل ذکر ہے کہ بحرینی عوام نے حکمران خاندان کی برائیوں، مفاسد، بدعنوانیوں، بیرون ملک سے آنے والوں کو بحرینی قومیت دینے اور شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کے خلاف حالیہ چند دنوں سے تحریک کا آغاز کیا ہے جس میں اب تک تین افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین کی مقامی آبادی کا 70 فیصد حصہ اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکومت آل خلیفہ کے ہاتھ میں ہے جو سنی کہلوانے کے باوجود دین اور دیانت سے دور دور کا تعلق بھی نہیں رکھتے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی (الأميرة الشيخة مريم الخليفة) ایک امریکی عیسائی سپاہی سے بیاہی ہوئی جو اس سے قبل اس میرین سپاہی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110