اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مصری عوام کے انقلاب کا چودھواں دن تھا جبکہ کل کے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور سید حسن نصراللہ نے بھی آج مصری انقلاب کی حمایت کی ہے۔
23:30 بجے ـ سعودی بادشاہ اور سعودی مفتی سنی نہیں ہیں
اخوان المسلمیں کے سابق ترجمان، ڈاکٹر کمال الہلباوی نے العالم چینل سے براہ راست نشر ہونے والی بات چیت میں کہا: ہم سید حسن نصر اللہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مصری عوام کے انقلاب کی حمایت کردی اور اس طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے بعد لبنان کے اہم راہنما کی حمایت کے ساتھ ہی انقلاب مصر کی حمایت میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا امریکہ حیرت کے دوراہے پر کھڑا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کو کرنا کیا چاہئے اور یہ کہ امریکہ آزادی، خودمختاری، جمہوریت اور اسلام کا خواہاں نہیں ہے اور انہیں سعودی بادشاہ عبداللہ کی نصیحتوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
انھوں نے سعودیوں کے رویوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی بادشاہ عبداللہ اور سعودی مفتی مذہب اہل سنت کے پیروکار نہیں ہیں اور اگر وہ سنی ہوتے تو وہ نبی اکرم (ص) کی سنت پر عمل کرتے؛ قرآن مجید اور سنت پیغمبر (ص) کا حکم ہے کہ فحشاء اور منکرات کے خلاف لڑو جبکہ شاہ عبداللہ فحشاء کو فروغ دینے والے ہیں۔
19:00 بجے ـ سید حسن نصراللہ کا خطاب
سید حسن نصر اللہکاش میں اس وقت میدان التحریر میں ہوتا / مبارک نے اپنے آپ کو صہیونیوں کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے
16:45 بجے ـ اسکندریہ کے عوام: ہم میدان میں ہیں
ایک طرف سے مظاہروں میں فوج کی مداخلت کی افواہیں گردش کررہی ہیں تو دوسری طرف سے مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ کے عوام نے کہا ہے کہ وہ میدان میں کھڑے ہیں اور کل منگل کو بھی اپنے مظاہرے جاری رکھیں گے۔
14:56 بجے ـ حزب عمل: طاغوت کے ساتھ مذاکرات معنی ندارد
مصر کی جماعت حزب عمل الاسلامی کے سیکریٹری جنرل «مجدی احمد حسین» نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طاغوت کے ساتھ مذاکرات ایک بے معنی عمل ہے؛ ہم آئین میں ترمیم کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ ہمیں نیا آئین چاہئے۔
14:10 بجے ـ چھاؤنی پر حملہ
صحرائے سینا کی شہر رفح میں ایک فوجی چھاؤنی کو راکٹوں اور ہینڈ گرنیڈوں سے نشانہ بنایا گیا جس میں ایک فوجی جوان زخمی ہوگیا۔
13:17 بجے ـ حزب الوسط الجدید
میدان التحریر میں حاضر بعض نوجوانوں نے اخوان المسلمیں سے الگ ہوکر حزب الوسط الجدید نامی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ حزب الوسط بھی 1990 کی دہائی میں تشکیل پایا تھا۔ لیکن نئی جماعت کا نام حزب الوسط الجدید رکھا گیا ہے۔
12:50 بجے ـ جامعة الازہر نے مخالفین پر تنقید کی ہے!!
علمائے الازہر نے ـ حکومت کے تنخواہ دار ہونے کی بنا پر ـ عوامی احتجاج کی حمایت میں صادر ہونے والے فتوؤں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ان فتوؤں کو فتنے سے تعبیر کیا ہے اور یہ فتوے دینے والے افراد کو گنہگار قرار دیا ہے۔
12:36 بجے ـ گھیرا تنگ ہورہا ہے
مصری فوجی میدان التحریر کا گھیرا تنگ سے تنگ تر کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہزاروں افراد میدان کی طرف جانے والے راستوں میں اکٹھے ہورہے ہیں۔
10:55 بجے ـ میدان التحریر کے گرد کانٹے دار تاریں
مصری فوج میدان التحریر میں عوام کے بڑے اجتماع کے انعقاد کا راستہ روکنے کے لئے میدان التحریر کے ارد گرد کانٹے دار تاروں کی تنصیب کا آغاز کیا ہے اور مظاہرین نے کانٹی دار تاروں کی تنصیب روکنے کے لئے فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں شروع کردی ہیں۔
10:50 بجے ـ صوبہ الشرقیہ کی عوام قاہرہ کی طرف روانہ
صوبہ الشرقیہ کے عوام حکومت مصر کے خاتمے کے لئے میدان التحریر میں کل کے عظیم مظاہرے میں شرکت کے لئے قاہرہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔
10:45 بجے ـ اسکندریہ میں مظاہرے جاری ہیں
قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ میں بھی حکومت کے مخالفین نے اجتماع منعقد کیا ہوا ہے اور لوگوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے ہیں اور حسنی مبارک کی برطرفی اور ملک سے نکل جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
10:30 بجے ـ میدان التحریر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ
مصری فوجیوں کی تعداد میدان التحریر میں بڑھ گئی ہے اور میدان میں موجود مظاہرین نے عوام کے اجتماع کے لئے فضا کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
9:12 بجے ـ