حضرت آیت اﷲسیستانی کا فتویمیں نے حضرت آیت اﷲ العظمی سیستانی مدظلہ العالی کی خدمت میں رھبر معظم انقلاب اسلامی کی طرف سےعزاداری کے سلسلے میں صادر کئے گئے مذکورہ احکامات کے دائرہ کار سے متعلق سوال کیا اور وہاں سے جواب آیا کہ <<حضرت آیت اللہ سیستانی کے مطابق معاشرے کے نظم کے سلسلے میں فقیہ عادل مقبول کا حکم تمام مؤمنین کے ساتھ ساتھ باقی مجتہدین پر بھی نافذ العمل ہے >>۔معظم لہ کا جواب موصول ہونے کے بعد بعض لوگوں نے کہا کہ اس میں تقلید کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور کہنے والے خود کو حضرت آیت اﷲ العظمی سید علی سیستانی مدظلہ العالی کے مقلد ظاہر کرتے تھے ۔

میں نے اس بارے میں ان کے دفتر کے ساتھ مکاتبہ کیا اور وہاں سے تحریری جواب موصول ہوا کہ <<تکلیف (یا فرض) شرعی صرف مجتہد بیان کر سکتا ہے اور جو خود مجتہد نہ ہو اس کا فتوی دینا حرام ہے اور اسکے کہے پر عمل کرنا بھی حرام ہے ۔قارئین محترم و معظم سے استدعا ہے کہ حقائق کے بارے میں خود فیصلہ کرکے صحیح اور غلط رہنمائی کو آپس میں تفکیک کرکے ، امام زمانہ روحی لہ الفدا کے سپاہی ہونے کا ثبوت دیں اور انکے نائب امام خامنہ ای دامت برکاتہ کے رہنما اصولوں کو معاشرے میں نافذ کرنے میں علماء اور مبلغین اسلام کی مدد کریں ۔والسلام علیکم رحمۃ اﷲ وبرکاتہالتماس دعامترجم:آغا سید عبدالحسین بڈگامیمہم نقاط:روایتی قمہ زنی نقلی ہے ۔ یہ ان کاموں میں سے ہے جنکا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا بھی اس کام سے راضی نہیں ہے۔ رہبر معظم

بشکریہ از برادر علی رضا علویs_alirazaalvi@yahoo.com

اپڈیٹ:

ایک صاحب نے لکھا ہے کہ یہ خبر جعلی ہے اللہ ہم سب کو تقوائے الہی نصیب فرمائے۔ ایسا غیر ذمہ دارانہ فعل انجام دینے سے ہمیں بچائے کہ ایک عظیم مرجع پر کوئی الزام لگا کر  دوسرے عظیم مرجع تقلید اور ولی فقیہ کی تأئید کے لئے جعلی ثبوت لائیں حالانکہ اس کے اثبات کے لئے ان چیزوں کی خاص ضرورپ نہیں ہے۔بہر حال ہم جیسے ناشناس غریبوں پر جعلی پن کا الزام لگاتے ہوئے بهی تقوی کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ یہ تہمت ہے اور تہمت گناہ کبیرہ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر یہ درست ہے تو ثبوت لائیں تو یہ بھی اس کا ثبوت ہے آقائے سیستانی کی ویب سائٹ سے: