ابنا: ڈاکٹر سعید جلیلی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشترکہ منطق کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات میں قوموں کے حقوق کا احترام ضروری ہے اور اس بنا پر تہران تمام شعبوں اور میدانوں میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی پیشگي شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن وہ مقابل فریق کے کسی بھی غیرمنطقی مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ایران ان ممالک میں شامل ہے کہ جس کی ایٹمی سرگرمیاں شفاف اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں انجام پا رہی ہیں۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے کئی بار ایران کی ایٹمی تنصیات کا معائنہ کیا ہے اور اس ایجنسی کے سربراہ نے اپنی متعدد رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر شفاف ہے اور اس میں کسی بھی قسم کا انحراف نہیں پایا جاتا ہے۔ استنبول مذاکرات کے آغاز سے قبل دنیا کے ایک سو بیس سے زائد ملکوں کے نمائندوں نے ایران کی دعوت پر ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کیا اور واضح طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں خفیہ نہیں ہیں اور مکمل طور پر شفاف ہیں۔ ایران نے ایٹمی مسئلے کے بارے میں مقابل فریق کے سامنے اپنی نیک نیتی ظاہر کر دی ہے لیکن دوسرا مذاکراتی فریق غیر قانونی مطالبات کا تقاضا کرتا ہے اور قوموں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا۔ بین الاقوامی قوانین میں قوموں کے حقوق کے احترام پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس کا خیال رکھنا تمام ملکوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ تمام قوموں کے تعاون سے ہی عالمی سطح پر امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے بارہا یہ کہا ہے کہ دنیا کا انتظام اس طرح چلانا چاہیے کہ تمام قوموں کا اس میں کردار ہو تاکہ تمام قوموں کے مفادات کا تحفظ ہونے کے ساتھ ہی ساتھ عالمی امن قائم ہو۔ ایران علاقائی اور عالمی سطح پر کافی اہمیت اور اثرورسوخ رکھتا ہے اور اس اثرورسوخ کو استعمال کر کے عالمی سطح پر تعاون کے لیے بہترین مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اسی بنا پر ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران مختلف میدانوں میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ جب کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک کو چاہیے کہ وہ خود کو صیہونیوں اور بعض سامراجی طاقتوں کے دباؤ کا اسیر نہ بنائيں۔انہوں نے کہا کہ صیہونی، یورپ کی بعض سامراجی اور اقتدار پسند حکومتیں اور امریکہ مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
..........
/110