ابنا: اطلاعات کے مطابق ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کل منعقد ہوا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران نے مشترکہ نقاط کے بارے میں تعاون کے سلسلے میں مقابل فریق کو واضح تجاویز پیش کی ہیں جس کا گروپ پانچ جمع کے نمائندوں نے ابتدائی ردعمل میں خیرمقدم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندے ان مذاکرات کے اگلے دور میں ایران کی تجاویز کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کریں گے۔ ان مذاکرات کی تفصیلات ابھی منظرعام پر نہیں آئي ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکیوں نے ایرانی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے بڑی کوششیں کیں جو مسترد ہوئیں۔ ایک مغربی سفارت کار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ استنبول میں گروپ پانچ جمع ایک ایرانی وفد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کو قبول کر لے۔ اس سفارت کار نے نام نہ بتانے کی شرط پر دعوی کیا کہ جب تک ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان دو طرفہ ملاقات نہیں ہو گي گروپ پانچ جمع کو کوئی پیشرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس سفارت کار کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مذاکرات پر امریکہ بہت زیادہ اثرانداز ہے اور گروپ پانچ جمع ایک کے دیگر ممالک کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ دریں اثنا گروپ پانچ جمع ایک ساتھ استنبول مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ ڈاکٹر سعید جلیلی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ملاقات کے بعد استنبول میں دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ انھوں نے ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو سے بھی ملاقات کی اور علاقائی تبدیلیوں، دو طرفہ تعلقات اور استنبول مذاکرات کے بارے میں ان سے بات چیت کی۔ انہوں نے اسی طرح روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف سے بھی ملاقات کی۔
............
/110