17 جنوری 2011 - 20:30

تیونس کی مطلق العنان حکومت کے خلاف عوام کے ایک مہینے سے جاری پرتشدد مظاہروں کے بعد بالآخر زین العابدین بن علی عہدہ صدارت چھوڑ کر سعودی عرب فرار کرنے پر مجبور ہوہی گئے اوریوں تیونس کے عوام نے ان کی تیئس سالہ آمریت کی بساط لپیٹ دی ۔

ابنا: تیونس کے مفرور صدر زین العابدین ایک طیارے کے ذریعہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب کے شہر جدہ کے ہوائی اڈے پر اتر ےاس سے پہلے فرانس کے صدر سرکوزی نے ان کاطیارہ فرانس کے کسی بھی شہر میں اترنے سے منع کردیا تھا یوں وہ سعودی عرب پہنچ گئے ۔ سعودی عرب کی حکومت کا کہنا ہے کہ زین العابدین بن علی کو اس شرط پر اپنے یہاں پناہ دی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی انجام نہیں دیں اور نہ ہی کوئی انٹرویو کریں گے ۔ تیونس کے مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے روزگار نہ ملنے اور اپنی غربت سے تنگ آکر سڑک پر کھلے عام خود سوزی کرلی یہی واقعہ ایک ایسی چنگاری بن گیا جو بہت ہی مختصر عرصے میں عوام کے اندر چھپی ناراضگی اور غصہ کو شعلے میں تبدیل ہوئی جس نے تیونس کے آمر و مطلق العنان حاکم کے محل کو اپنی لپیٹ میں لے کر آمریت کے ایوان کو راکھ کے ڈھیر میں بدل ڈالا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک مہینے کے مختصر سے عوامی مظاہروں نے ایک ایسے وقت زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جب انھوں نے گذشتہ برس کے انتخابات میں یہ دعوی کیا تھا کہ انھیں عوام کے نوے فیصد ووٹ ملے ہيں مگر ان کے خلاف عوام کے غیظ و غضب اور سرانجام عوامی شورش نے ان کے دعوے کو غلط اور جھوٹا ہونے کو ثابت کردکھایا ۔ تیونس میں زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف عوامی تحریک اور احتجاجی مظاہروں کی ایک وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بدحال معیشت کو قراردیا جارہا ہے مہنگائی میں بےتحاشا اضافہ ہوگیا ہے اور روز مرہ کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں جس کی وجہ سے غریب طبقے کو اپنا پیٹ بھرنے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہيں ۔جبکہ حکمراں طبقے کی اقربا پروری اور ثروت اندوزی کا سلسلہ کھلے عام بڑھتا جارہا تھا لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیونس کی گذشتہ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں اور بدحال معیشت و بے روزگاری و مہنگائی جیسے عوامل عوام کی ناراضگی میں اہم تھے مگر جیسا کہ مظاہروں کے دوران لوگوں کے ہاتھوں میں پلی کارڈز پر لکھا ہواتھا کہ ہماری ضرورت صرف روٹی کپڑا مکان نہيں بلکہ ہمیں اس کے ساتھ ساتھ آزادی بھی چاہئے بنابریں تیونس کے حالیہ بحران کا ایک بڑا محرک وہاں کی سیاسی گھٹن اور سیاسی مشکلات بھی تھیں جو کم وبیش علاقے کے سبھی عرب ممالک کے گریباں گیر ہے ۔ جب عرب ملکوں پر نظر ڈالتے ہيں تو اردن مصر اور کئي دیگر ایسے ممالک نظر آتے ہيں جو تیونس کی ہی سیاسی مشکلات جیسے مسائل کا سامنا کررہے ہيں ایسے ممالک کہ جن کے حکمرانوں اور عوام میں کافی فاصلہ پایا جاتا ہے اور جہاں صرف مغربی ممالک اور امریکہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے حکمرانوں کو عوام سے دور کئے ہوئے ہيں اسی لئے بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ تیونس کا حالیہ سیاسی بحران اس طرح کے سبھی عرب ملکوں کے لئے ایک کھلا پیغام اور ساتھ انتباہ بھی ہے ۔ اس میں شک نہیں جیسا کہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے تیونس کا سیاسی بحران علاقے کے ديگر عرب ملکوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گا ۔اور جلد یا بدیر علاقے کے عرب ممالک میں اسی طرح حالات اور غیرمتوقع صورت حال کا سب کو مشاہدہ کرنا ہوگا اس میں دورائے نہیں کہ مشرق وسطی کا علاقہ اپنی قدیمی ساخت و روایت سے باہرنکل رہا ہے اور عوام اب کھل کر اپنے اپنے ملکوں میں بڑی اور بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرنے لگے ہيں جن میں سیاسی اور مذہبی آزادی سمیت بہتر زندگی گذارنے کے مواقع فراہم ہونے کی خواہش کروٹ لے رہی ہے۔

.........

/110