14 نومبر 2010 - 20:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے حج کے موقع پر حجاج بیت اللہ الحرام کے نام پیغام صادر فرمایا ہے۔


اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

والحمدللہ رب العالمین و صلی اللہ علی سیدنا محمّد المصطفی و آلہ الطیبین و صحبہ المنتجبین

کعبہ، وحدت و عظمت کا راز، توحید و معنویت کی علامت، حج کے موسم میں مشتاق اور پرامید دلوں کا میزبان ہے جو پوری دنیا سے رب جلیل کی دعوت قبول کرکے لبیک کہتے ہوئے اسلام کے مقامِ ولادت پر حاضر ہوئے ہیں۔ اب امت اسلامی دنیا کے چار گوشوں سے اس مقام پر اکٹھے ہونے والے نمائندوں کی آنکھوں سے اپنی وسعت اور گوناگونی اور اس دین حنیف کے پیروکاروں کے دلوں پر حکمفرما ایمانی گہرائی کا مشاہدہ کرسکتی ہے اور اس عظیم اور بے مثل سرمائے کو صحیح انداز سے پہچان سکتی ہے۔
یہ اپنی بازشناسی (دوبارہ شناخت حاصل کرنا) ہمیں مدد دیتی ہے کہ ہم مسلمان دنیا کے حال و مسقبل میں اپنے شایان شان مقام و منزلت کو سمجھ لیں اور اس مقام و منزلت کی جانب قدم بڑھائیں۔
آج کی دنیا میں اسلامی بیداری کی لہر، ایک ایسی حقیقت ہے جو امت اسلامی کو نہایت نیک مستقبل کی نوید سناتی ہے۔ تین عشرے قبل انقلاب اسلامی کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل و تأسیس سے ہی اس طاقتور نشأت (Rise) کا آغاز ہوا، ہماری عظیم امت بلاناغہ آگے بڑھتی رہی ہے، کئی رکاوٹوں کو راستے سے ہٹا چکی ہے اور کئی مورچوں کو فتح کرچکی ہے۔ یہ عالمی استکبار جو دشمنیوں کے پیچیدہ شیووں پر عمل پیرا ہے اور اسلام کے مقابل میں مہنگی کوششیں اور سازشیں کررہا ہے، یہ بھی اسلام کی اسی ترقی اور پیشرفت کی دلیل ہے۔ دنیا کو اسلام سے خوفزدہ کرنے اور اسلامو فوبیا کو فروغ دینے کے سلسلے میں دشمن کی وسیع تشہیراتی مہم، اسلامی فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ تفریق کے فروغ اور فرقہ واران تعصبات کی ترویج کے بارے میں ان کے جلدبازانہ اقدامات، جھوٹی دشمن تراشیاں ـ شیعہ کو سنی کا دشمن ثابت کرنے اور سنی کو شیعہ کا دشمن ثابت کرنے ـ کے حوالے سے دشمنوں کی سازشیں، مسلم حکومتوں کے درمیان تفریق و اختلاف پیدا کرنے، اختلافات کو شدت دینے اور انہیں دشمنی اور ناقابل حل جھگڑوں میں تبدیل کرنے کی سازشیں، نوجوان نسل میں برائی اور فحاشی کا پرچار کرنے کے سلسلے میں جاسوسی اور سیکورٹی ایجنسیوں کے وسیع استعمال، سمیت تمام کے تمام اقدامات عزت و عظمت، بیداری اور حریت کی جانب امت اسلامی کی با وقار پیشرفت اور مضبوط قدموں کے مد مقابل اندھا دھُند اور آشفتہ رد عمل ہی کا حصہ ہیں۔
آج تیس سال قبل کے زمانے کے برعکس، صہیونی ریاست مزید ایک ناقابل شکست ہیولا نہیں رہی ہے، دو عشرے قبل کے زمانے کے برعکس، امریکہ اور مغربی ممالک مشرق وسطی میں بلا چون و چرا فیصلہ کن قوت نہیں رہے ہیں، آج دس سال قبل کے زمانے کے برعکس، جوہری ٹیکنالوجی اور دوسری پیچیدہ صنعتی و  فنی مہارتوں کا حصول خطے کی مسلم اقوام کی رسائی سے خارج اور افسانوی نہیں رہا ہے۔ آج فلسطینی قوم استقامت کی ہیرو ہے، لبنانی قوم تن تنہا صہیونی ریاست کی جھوٹی ہیبت توڑ کر33 روزہ جنگ کی فاتح ہے؛ اور ملت ایران دشمن کی فرنٹ لائن توڑ کر عظمت کی چوٹیوں کی جانب گامزن کارواں کی علمبردار ہے۔
آج مستکبر امریکہ، اسلامی خطے کا خودساختہ کمانڈر اور صہیونی ریاست کا اصلی حامی، ایسے دلدل میں پھنس چکا ہے جو اس نے خود ہی افغانستان میں تیار کیا تھا؛ عراق میں ـ عوام پر مختلف قسم کے مظالم ڈھاکر اور جرائم کا ارتکاب کرکے ـ گوشہ نشینی اور تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے؛ مصیبت زدہ پاکستان میں ہمیشہ سے زیادہ منفور (قابل نفرت) ہے۔ آج دو صدیوں تک اسلامی اقوام اور ممالک پر ظالمانہ حکمرانی کرنے اور ان کے وسائل لوٹ کر لے جانے والا اسلام مخالف محاذ، اپنی آنکھوں سے اپنے اثر و رسوخ کے زوال اور اپنے مدمقابل مسلمان قوموں کی دلیرانہ استقامت و مزاحمت کا مشاہدہ کررہا ہے اور دوسری جانب سے اسلامی بیداری کی حرکت روز افزوں پیشقدمی کررہی ہے اور اس کی گہرائی میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔
یہ امید بخش حالات ـ جو ہم مسلم اقوام کے لئے خوشخبریوں کے حامل ہیں ـ ایک طرف سے: مطلوبہ مستقبل کی جانب ہماری اطمینان بخش پیشرفت کا سبب بننے چاہئیں اور دوسری طرف سے ان ہی حالات کے دروس اور اس کی عبرتیں ہمیشہ سے زیادہ، مسلم اقوام کی ہوشیاری اور کیاست کا سبب ہونی چاہئیں۔ یہ عمومی خطاب ـ بلاشک ـ علمائے دین، سیاسی قائدین، روشنفکر دانشوروں اور جوانوں کو دوسروں سے کہیں زیادہ متعہد (COMMITTED) بنا دیتا ہے اور ان سے مجاہدت اور پیشروی کا تقاضا کرتا ہے۔
قرآن کریم، گویا اور زندہ، ہم سے مخاطب ہے: "کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَأمُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَ تَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَ تُؤمِنُونَ بِاللهِ" (1) اس باعظمت خطاب میں بنی نوعی انسانی کے لئے خلق ہوئی ہے۔ اس امت کی تخلیق کا ہدف و مقصد، انسان کی نجات اور انسان کی خیر و نیکی ہے۔
[اس خطاب میں] اس امت کا فرض نیکیوں کا حکم دینا اور بدیوں سے روکنا اور اللہ پر ایمان راسخ ہے۔ کوئی بھی نیکی اور کوئی بھی معروف استکبار کی شیطانی قوت کے چنگل سے ملتوں کو نجات دلانے سے بہتر و برتر نہیں ہے اور کوئی بھی بدی اور منکَر مستکبرین سے وابستگی اور ان کی خدمت سے زیادہ بھونڈا نہیں ہے۔ آج ملت فلسطین اور غزہ کے قلعہ بند عوام کو مدد پہنچانا، افغانستان، پاکستان، عراق اور کشمیر کی ملتوں سے ہمدردی اور ہمراہی کرنا، امریکہ اور صہیونی ریاست کی جارحیت کے مقابلے میں مجاہدت و مزاحمت کرنا، مسلمانوں کے اتحاد کا تحفظ کرنا اور اس اتحاد کو نقصان پہنچانے والے آلودہ ہاتهوں اور غلامی کی زبانوں کا مقابلہ کرنا، اور تمام مسلم ممالک اور خطوں میں نوجوانوں میں بیداری، تعہد، اخلاص کو فروغ دینا ان عظیم فرائض میں سے ہے، جو خواص امت پر عائد ہوتے ہیں۔
حج کا پر شکُوہ منظر، ہمیں ان فرائض پر عملدرآمد کے لئے مساعد اور موافق میدانوں کا پتہ دیتا ہے اور ہمیں دو چند ہمت اور دوچند محنت کی دعوت دیتا ہے۔

والسلام علیکم و رحمة اللہ
سیّدعلی حسینی خامنہ ای
یکم ذوالحجةالحرام 1431

...........
1). سوره آل عمران آیت 110 -- ترجمہ: تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

...........

/110