9 نومبر 2010 - 20:30

افغان صوبے فراہ کی پولیس نے ایک خودکش حملہ آور کو حملے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ افغانستان میں احمقوں کی جنت کے خواہشمند خودکش حملہ آور کو جنت کے دروازے پر ہی پکڑ لیا گیا جس نے بارود بھرا بیلٹ بھی پہن رکھا تھا اور کسی حساس مقام پر حملہ اور مسلمانوں کا قتل عام کرکے اپنے لیڈروں کی ترسیم کردہ احمقوں کی جنت میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ فراہ صوبے میں افغان پولیس نے ذرائع ابلاغ کو خودکش حملہ آور کی گرفتاری سے آگاہ کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس شخص یا کس ادارے اور مقام کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ فراہ پولیس چیف "محمد فقیر عسکر" نے ذرائع کو بتایا کہ یہ شخص فراہ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں "یزدی" سے گرفتار کرلیا گیا؛ اس کی عمر 26 سال ہے اور فراہ ہی کا باشندہ ہے۔ انہوں نے کہا: خودکش حملہ آور نے بارودی بیلٹ باندھ رکھا تھا اور اس نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ طالبان نے اس کو اعلی سرکاری شخصیات کو خودکش حملے کا نشانہ بنانے کے لئے یزدی گاؤں میں منتقل کیا تھا۔

فراہ صوبہ افغانستان ان علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں امن و امان کے مسائل حل نہیں ہوئے ہیں اور اس صوبے میں خودکش حملے عام سی بات ہے۔بات جو بھی ہو 26 سالہ افغانی نوجوان نے یقیناً اللہ کا شکر ادا کیا ہوگا کہ اس کو احمقوں کی جنت میں داخلے سے روک لیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل پشاور میں بھی ایک خودکش حملہ آور کو حملہ کرنے سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا تھا اور گرفتاری کے وقت پلیس نے اسے بے ہوش کردیا تھا اور پولیس کے زیر نگرانی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور جب ہوش میں آیا تو اسے ایک نرس نظر آئی اور اس نے بازو پھیلا کر "نرس کو اہلاً و سہلاً" کہتے ہوئے شکوہ کیا: "مجھے تو کہا گیا تھا کہ "شہادت(!)" کے بعد چہ حوریں میرا استقبال کریں گی؛ یہ آپ اکیلی کیوں ہیں"؟ مگر تھوڑی ہی دیر بعد اسے لیڈی ریڈنگ کا جنت لگنے والا کمرہ اچانک جہنم نظر آنے لگا کیوں کہ مزید حوریں آنے کی بجائے چند پولیس اہلکار وہاں موجود تھے جو حور و غلمان سے زیادہ غضب کے فرشتے لگتے تھے۔

..........

/110