رُم میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سید علی محمد حسینی نے آنسا خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے بارے میں کسی سے مذاکارت نہیں کرےگی کیونکہ این پی ٹی معاہدے کی ر وشن ی میں ایران کو یورینیو افزودہ کرنے اور پر امن ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ ایران کا قومی معاملہ ہے اور کوئی بھی حکومت اپنے قومی معاملات پر کسی فریق سے گفتگو نہیں کرتی ہے انھوں نے کہا کہ ایران کسی دوسرے ملک ک ےدباؤ یا اقتصادی پابندی میں آکر اپنے قومی مفادات کو ترک نہیں کرےگا۔ انھوں نے کہا کہ ایندھن کے تبادلے پر مذاکرات تجارتی نوعیت کے ہیں جبکہ گروپ 1+5 کے ساتھ مذاکرات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا آپس میں کوئي ربط نہیں ہے۔
.......
/110