1 ستمبر 2010 - 19:30

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر عبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ پاکستان کے علاقے سندھ میں امیر زمینداروں نے اپنی فصلیں بچانے کے لیے سیلاب کا رخ غریبوں کے علاقوں کی طرف موڑ دیا تھا۔

عبداللہ ہارون نے کہا ہے کہ اس بات کے ثبوت ہیں کہ بڑے زمین داروں نےسیلاب سے بچاؤ کےلئےبنائےجانےوالےپشتوں کو دانستہ طور پر پھٹنے دیا جس سے پانی ان کے کھیتوں سے دور چلا جائے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے امیر زمیندار کی ایما پر سیلاب کا رخ موڑنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان میں سیلاب سے تقریباً سولہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک کا تقریبا پانچواں حصہ سیلاب کے پانی سے متاثر ہوا ہے۔ یعنی اٹلی کے رقبہ کے برابر کا علاقہ زیر آب ہوا ہے۔اب سیلاب آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے اور پانی بحرہ عرب کی طرف نکل رہا ہے۔ لیکن سندھ میں اب بھی بہت جگہوں پر سیلاب کی صورت حال ہے۔

.......

/110