اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال رسول اللہ(ص): «من أصبح و لم یهتمّ بأمور المسلمیں فلیس بمسلم۔
جو شخص بھی صبح کرے اور مسلمانوں کے امور کا اہتمام نہ کرے (انہیں اہمیت نہ دے اور ان کے امور کی انجام دہی کا اہتمام نہ کرے) وہ مسلمان نہیں ہے۔
ان ایام میں جبکہ دنیا کے مسلمان ماہ مبارک رمضان کی معنوی برکتوں سے بہرہ مند ہورہے ہیں اور ایک دوسرے کو افطار اور سحری کے خوبصورت دسترخوانوں پر بلاتے اور ایک دوسرے کی میزبانی کررہے ہیں ہمارے دوست اور برادر ملک پاکستان میں ایک تباہ کن سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ پاکستان میں گذشتہ 80 سال کے عرصے میں پہلی بار اتنا عظیم سیلاب آیا ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں ہمارے 22000 سے ہم عقیدہ انسانوں کے جاں بحق یا لاپتہ ہونے، ڈیڑھ کروڑ سے زائد مسلمانوں کے بےگھر ہونے کا سبب بن گیا ہے اسی طرح گلگت ـ بلتستان اور پنجاب اور سندھ میں دسیوں لاکھ پیروان اہل بیت (ع) بھی اس طبیعی المیئے سے متأثر ہوئے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ امداد رسانی کا کام بہت دشوار ہے جس کی وجہ سے انسانی ہمدردی پر مبنی عالمی ریلیف کی بروقت فراہمی میں تأخیر ہورہی ہے اور سیلاب زدگان کو پینے کے صاف پانی، اشیائے خورد و نوش اور ادویات کے حوالے سے شدید کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے جانی نقصانات بڑھ جانے اور وبا جیسے خطرناک اور متعدی امراض پھیلنے کے خدشات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ شدید بارشوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے اور امداد رسانی کا کام مزید دشوار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے صورت حال مزید گھمبیر ہوگئی ہے؛ علاوہ ازیں پاکستانی حکام سے ہمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق تقریباً ساڑھے سترہ لاکھ ایکڑ اراضی پر چاول اور کپاس کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور یہ امر خطے کے لئے المناک مستقبل کا پتہ دیتا ہے۔ اسی طرح، اس کے باوجود کہ موجودہ نقصانات کی سطح بہت وسیع ہے اور پانی کی سطح معمول کی حد تک گرجانے میں مزید چالیس دن کا عرصہ لگے گا، بارشوں کا تیسرا دور بھی عنقریب شروع ہونی والا ہے۔ مذکورہ بالا حقائق اور قرآن مجید، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت رسول علیہم السلام کی تعلیمات ـ جن میں مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور نقصان پانے والے مسلمانوں کی مدد مسلمان ہونے کی علامت قرار دی گئی ہے ـ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی دنیا کے تمام مسلمانوں، نیز مؤثر تنظیموں اور شخصیات سے اپیل کرتی ہے کہ فوری طور پر ـ نقد اور جنس کی صورت میں ـ امداد جمع کرکے ارسال کریں اور سیلاب زدہ مسلمانوں کے دکھوں کو کسی حد تک کم کرنے کا اہتمام کریں۔ تنظیمیں، انجمنیں، خیراتی ادارے اور عوام کے مختلف طبقات ذیل میں دیئے گئے ذرائع سے پاکستان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اپنی امداد ارسال کرسکتے ہیں: ٭ بینک ملی ایران میں امام خمینی (رح) امدادی کمیٹی کے اکاؤنٹ نمبر 1123؛٭ بینک ملی ایران میں ہلال احمر سوسائٹی کا اکاؤنٹ نمبر 99999؛بیرون ملک مسلمانوں کے لئے بیرونی کرنسی میں امداد جمع کرانے کے لئے؛ بینک ملی ایران کا فارن کرنسی اکاؤنٹ نمبر: 702070؛٭ نقد امداد کے سوا عوام اور ادارے اپنا امدادی سامان ایران کے مختلف شہروں میں پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے قائم شدہ ہلال احمر، امام خمینی (رح) امداد کمیٹی، بسیج مستضعفین سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، نماز جمعہ کمیٹیوں کے قائم کردہ خصوصی مقامات پر جمع کراسکتے ہیں جبکہ بیرون ملک مسلمان بھی مقررہ مقامات پر اپنا امدادی سامان جمع کراسکتے ہیں۔٭ پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے اس وقت جن اشیاء کی اشد ضرورت ہے ان میں پینے کا پانی، ادویات، مختلف قسم کی پریزرو شدہ خوراک، آٹا، کھجوریں، کمبل، پانی کے تھرموس، مچھردانیاں، باورچی خانے میں استعمال ہونے والے برتن، صابن، واشنگ پاؤڈر، اور لباس شامل ہے۔ ٭ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی بھی ـ پاکستان میں مختلف اداروں اور شخصیات سے رابطہ رکھنے کے پبش نظر ـ عوامی امداد وصول کرکے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے روانہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ ٭ نقد اور جنس کی صورت میں فوری امداد کے علاوہ، ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے سیلاب زدگان کے سلسلے میں عالمی سطح پر ہمدردانہ جذبات ٹھنڈے پڑ رہے ہیں اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں سردیاں بھی شروع ہورہی ہیں چنانچہ ابھی سے تباہ شدہ گھروں اور علاقوں کی تعمیر نو کے لئے مالی، فنی اور انجنیئرنگ کے سلسلے میں اقدامات کی ضرورت ہوگی بصورت دیگر پاکستانی عوام کو مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا سیلاب زدہ علاقوں میں پانی کی سطح گرجانے کے ساتھ ہی ان علاقوں میں تعمیر نو کا کام شروع کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے بھی عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ایران کے اندر اور باہر کے مالدار اور نیک انسانوں، انجنئروں، کمپنیوں اور تعمیراتی شعبے سے متعلقہ تنظیموں سے تعاون کی اپیل کرتی ہے۔ آخر میں ایک بار پھر دنیا کے تمام انسانیت دوستوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ امدادرسانی کی اس عالمی تحریک میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہمارے قدموں کے ساتھ قدم ملائیں؛ اس امید سے کہ ہمارا عمل خداوند سبحان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قائم آل محمد امام زمان حجت بن الحسن المہدی(عج) کی رضا و خوشنودی کا سبب بن جائے۔
"و قل اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ" (توبہ / 105)(اور کہہ دو [کہ جو چاہو] کرو [یاد رکھو] كہ بہت جلد خدا، رسول خدا (ص) اور مؤمنین تمہارے اعمال کا محاسبہ کریں گے)۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلیرمضان المبارک 1431