سیلاب سے نمٹنے کے لیے بیرونی تعاون نا کافی ہے، ریڈ کراس بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بدترین سیلاب پر عالمی ردعمل تباہ کاری کے تناسب سے کافی کم ہے، خدشہ ہے کہیں امداد آتے آتے بہت دیر نہ ہوجائے، تعمیر نو اور بحالی میں کئی برس کا عرصہ لگ سکتا ہے نیز صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر میڈیا کچھ عرصے تک سیلاب کو اپنی ہیڈ لائنز سے نہ نکالے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے سیکریٹری جنرل بیکلے گیلیٹا نے برطانوی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ اب تک مطلوبہ ہنگامی امداد کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی پہنچ سکا ہے۔ عالمی برادری تباہی کو اموات کی تعداد سے جانچنے کی کوشش نہ کرے۔ سیلاب سے فصلیں برباد ہوگئی ہیں، جبکہ نہری اور آب پاشی نظام سمیت زرعی اور دیگر انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔ اس پورے نظام کی بحالی میں کم از کم پانچ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔گیلیٹا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مطلوبہ امداد فوری طور پر نہ ملی تو صورت حال نہایت سنگین ہوسکتی ہے؛ وبائی امراض پھوٹنے اور غذائی قلت سے خاص کر بچے اور معمر افراد کی اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے ہنگامی اور طویل مدتی امداد کے وعدے ناکافی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے سیلاب کی تباہ کاری سے اکیلے نمٹنا تقریباً ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی اور عالمی سطح پر سنگین صورت حال پر توجہ برابر مبذول کرانے کیلئے میڈیا کچھ عرصے تک سیلاب کو نمایاں کوریج دیتا رہے۔پاکستان میں سیلاب، جنرل اسمبلی کے بعد او آئی سی کے ہنگامی اجلاس طلب پاکستانی قونصل جنرل عبد السالک خان کی او آئی سی کے سکریٹری جنرل سے ملاقات، سیلاب کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل پروفیسر اکمل الدین احسان اوغلو نے پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والے صورتحال پر غور کرنے کے لئے او آئی سی ممالک کے مستقل نمائندوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ یہ بات جیونیو ز کے نمائندے شاہد نعیم سے بات چیت کرتے ہوئے جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل عبد السالک خان نے اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے بعد بتائی۔ ملاقات میں انہوں نے پاکستان کے صوبوں اور شہروں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔عبد السالک خان نے مزید بتایا کہ اجلاس 18 اگست کی صبح تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوگا جس میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا، سنیگال، سوڈان، اردن، شام، متحدہ عرب امارات، فلسطین اور دیگر ممالک کے نمائندے شرکت کرینگے اور پاکستان میں سیلاب اور بارش سے پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا اور رکن ممالک سے آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان اور پاکستانی عوام سے اظہار یکجہتی و ہمدردی کریں گے اور رکن ممالک سے اپیل کی جائے گی کہ پاکستان میں متاثرہ افراد کی آبادکاری اور امدادی کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ملاقات کے دوران اوآئی سی کے سکریٹری جنرل نے قونصل جنرل سے پاکستان میں ہونے والی سیلاب کی تباہ کاری پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ بان کی مون کی عالمی برادری سے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بھر پور مدد کرنے کی اپیل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اقوام متحدہ کی جانب سے مزید ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری اس مشکل وقت میں پاکستان کی بھر پور مدد کرے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے سے واپسی کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری کے ہمراہ چکلالہ ایئر بیس پر نیوز کانفرنس سے خطات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کا کہنا تھا کہ دو کروڑ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے جن کی امداد کیلئے اقوام متحدہ اور ذیلی ایجنسیاں مصروف عمل ہیں؛ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پاکستان کی تیزی سے مدد کررہی ہے؛ لوگوں کو کھانے پینے کی اشياء، خیموں، صاف پانی اور دوائیوں کی فوری ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ متاثرین سیلاب کیلئے مجموعی طورپر27 ملین ڈالر کی امداد فراہم کررہے ہیں۔ اس سے قبل بان کی مون نے پاکستان کےصدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔صدر زرداری نے بان کی مون کو سیلاب کی تباہ کاریوں اور حکومت پاکستان کے اقدامات کے حوالے سے بریف دیتے ہوئے بتایا کہ سیلاب سے مجموعی نقصان ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے؛ کوئی ملک تنہا اتنے بڑے چیلنج سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا؛ سیلاب سے ملک کے 71 اضلاع متاثر ہوئے ہیں جن میں 24 خیبر پختونخوا، 19 سندھ، 8 پنجاب، 7 آزاد جموں و کشمیر،7 گلگت بلتستان اور 6 بلوچستان میں ہیں۔ صدر نے کہاکہ 1400 افراد اب تک ہلاک اور 7 لاکھ 20 ہزار مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بان کی مون سے ملاقات میں بتایا کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں عوام کی مدد کے لئے متحد ہیں۔
سیلاب کی موجودہ صورت حالدریں اثناء جیکب آباد میں ریلوے ٹریک پر سیلابی پانی آنے کے باعث کوئٹہ کا اندرون ملک بذریعہ ریل رابطہ تیسرے روز بھی منقطع رہا اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشن سے اندرون ملک کے لئے کوئی ٹرین روانہ نہ ہوسکی۔ ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے راولپنڈی کے لئے جعفر ایکسپریس، پشاور کے لئے کوئٹہ ایکسپریس اور کراچی کے لئے بولان میل کو روانہ کیا جانا تھا، تاہم جیکب آباد اور ڈیرہ اللہ یار کے درمیان سیلابی پانی آنے سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا ہے۔ بلوچستان میں 23 جولائی کو آنے والی سیلابی ریلے کے باعث دو بار پہلے بھی ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کی جاچکی ہے، تاہم ٹرین سروس کو دوبارہ شروع ہوئے تین روز ہی گزرے تھے کہ جیکب آباد میں پانی آنے کے باعث ٹرین سروس معطل کرنا پڑی۔ادھر اطلاع ملی ہے کہ کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں مزید بارش کا امکان ہےملک کے بعض وسطی اور بالائی علاقوں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اس میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اضافے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب، شمالی بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں کہیں کہیں بارش ہوئی، سب سے زیادہ پڈعیدن میں 65 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں48، اوکاڑہ اور حیدرآباد میں 38، بہاول پور میں 36 ملی میٹر بارش ہوئی، سبی میں 29 ملی میٹر، سیالکوٹ اور مری میں 23، ڈی جی خان میں 13، بھکر میں 12، گڑھی دوپٹہ میں 11 اور کوٹلی میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ، گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور سندھ میں مزید بارش کا امکان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110