دھلیا واسفی نے پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عالم میں کہ جب امریکہ دوسرے ملکوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے کےلئے دنیا کے ایک سوبیس ملکوں میں سات سو فوجی اڈے قائم کئے ہوئے ہے، کس طرح دوسرے ملکوں پر دہشت گردی برآمد کرنے کا الزام لگاتا ہے۔دھلیا واسفی نے افغانستان اور عراق پر امریکہ کی لشکرکشی کوان ملکوں پر مسلمہ قبضہ قرار دیتے ہوئے امریکی فوجیوں پر بڑے پیمانے پر ہونے والےحملے کو امریکی قبضے کےخلاف ان ملکوں کےعوام کا جائز حق قرار دیا۔ڈالیا واسفی نے کہا کہ گذشتہ کئی عشروں میں امریکہ کی خارجہ پالیسی ميں کوئي خاص تبدیلی نہيں آئی ہے۔واضح رہے کہ امریکی عوام افغانستان اورعراق سے امریکی فوج کےفوری انخلاکےخواہاں ہيں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110