شام کے صدر بشار اسد اور سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ کے درمیان کل رات بیروت میں تین گھنٹے تک طویل مذاکرات ہوئے اور شام کے صدر نے رفیق حریری قتل کیس کے سلسلےمیں تشکیل دی گئی عدالت کی تحقیقات پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رفیق حریری عدالت کا قیام امریکہ اور برطانیہ کے توسط سے ہوا ہے جس کی بنا پر عدالت کی تحقیقات قابل اطمینان اور منصفانہ نہیں ہیں؛ رفیق حریری عدالت کا قیام سیاسی بنیاد پر ہوا ہے اور اس عدالت نے لبنان اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالدیا ہے۔شام کے صدر نے سعودی ملک عبداللہ سے واضح الفاظ میں رفیق حریری عدالت کو ختم کرنے پر زوردیا اور کہا کہ امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل، رفیق حریری عدالت کو تحریک مزاحمت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور یہ بات ناقابل برداشت ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر اس عدالت نے اسلامی تحریک مزاحمت اور حزب اللہ کے خلاف بیان بازی جاری رکھی تو حزب اللہ بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ رفیق حریری عدالت نےقتل کیس کا رخ اسرائیل کی طرف سے موڑ کر مقاومت کی طرف کردیا ہے اور یہ وہی چیز ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی خواہش کے مطابق ہے۔ شام کے صدر نے کہا کہ اسلامی تحریک مزاحمت ہماری ریڈ لائن ہے اور حزب اللہ پر کسی کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری جو اب ملک کے وزیر اعظم ہیں گزشتہ ہفتے دمشق کے دورے پر گئے تھے جو ان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ سعد حریری کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے بھی طے پائے تھے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا کافی عرصہ سےامریکہ اور اسرائیل کی وکالت کررہے ہیں اور سعودی شاہ عرب و اسرائیل کے درمیان سازباز کرانے کی غرض سے مذاکرات میں شام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے دمشق پہنچے ہیں۔ سعودی فرمانروا امریکہ اور اسرائیل کی وکالت کرتے ہوئے لبنان میں اسلامی تنظيم حزب اللہ اور فلسطینی تنظیم حماس کو کمزور بنانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کا الزام حزب اللہ کے بعض افراد پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اس طرح حزب اللہ کو کمزور بنایا جاسکے جبکہ سب پر واضح ہے کہ رفیق حریری کے قتل میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ملوث ہے اور اس قتل کے سلسلے میں موساد کو تحقیق کے دائرے سے بالکل باہر رکھا گیا ہے۔ ادھر جبکہ جہاں چارعرب ملکوں کے سربراہ یا بادشاہ و امیر لبنان میں اپنے مذاکرات انجام دے رہے تھے، عرب ليگ نے صہیونی ریاست اورمحمود عباس کی نام نہاد محدود خودمختار انتظامیہ کے مابین براہ راست مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا اور عین اسی موقع پراسرائیل نے غزہ پربمباری کرکے متعدد فلسطینیوں کوشہید و زخمی کردیا۔ سعودی فرمانرواء شاہ عبداللہ مصراورشام کا دورہ مکمل کرکے جب بیروت پہنچے تووہاں ان کے ساتھ شام لبنان اورقطرکے صدر و امیر کی موجودگی ميں چارفریقی اجلاس کا بھی پروگرام طے تھا جواپنی نوعیت کا بہت ہی اہم اجلاس شمار کیا جارہا تھا اور اس اجلاس کا مقصد مشرق وسطی میں امن کی صورت حال کا جائزہ لینا بتایا گیا تھا۔ وہی خطہ جوغاصب صہیونی ریاست کے غاصبانہ قیام کے بعد سے ہی تاریخ کے بدترین ظلم وستم سے دوچار ہے۔ صہیونی ریاست کے جنگی طیاروں نے غزہ شہر اور شمالی غزہ کے علاقے بیت حانون پر حملے کئے جن کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ صہیونی ریاست کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملہ مقبوضہ فلسطینی علاقے عسقلان میں جہاں صہیونیوں کو غاصبانہ طریقے سے لاکربسایا گیا ہے فلسطینی مجاہدین کے حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے ۔جبکہ فلسطینی مجاہدین نے اس طرح کے کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہيں کی ہے ان فلسطینی گروہوں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست اس طرح کا دعوی کرکے غزہ پرحملے کا بہانہ تلاش کررہی ہے ۔ دریں اثناء فلسطین کی جہاد اسلامی تنظیم کے ایک رہنما خالد البطش نے کہا کہ صہیونی ریاست نے یہ حملہ عرب لیگ کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ عرب لیگ کی مشرق وسطی امن کمیٹی نے ہی اس حملے کے لئے اسرائیل کو ہری جھنڈی دکھائی ہے جو اس وقت امریکہ کے ہاتھ کھلونا بن چکی ہے اور جس کا کام صرف اورصرف اسرائیل کے ہی مفادات کو تحفظ دینا ہے۔ تیرہ عرب ملکوں کے وزراء خارجہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس اورعرب لیگ کے سکریٹری جنرل کی موجود گی میں قاہرہ کے اجلاس میں عرب ليگ کی امن کمیٹی نے صہیونی ریاست کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا۔ عرب لیگ کے اس اقدام کے بعد اب اسرائیلی حکومت، غزہ پرتازہ حملوں کےساتھ ساتھ فلسطینی علاقوں اورخاص طورپر مشرقی بیت المقدس میں صہیونی بستیوں کی تعمیر کے عمل کو اوربھی تیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ اپنے توسیع پسندانہ منصوبے کوعملی جامہ پہنا سکے ۔صہیونی ریاست کے اس وحشیانہ حملے اوراس کے گھناؤنے منصوبے کے پیش نظر حماس اورجہاد اسلامی جیسی فلسطینی تنظيموں نے صہیونی ریاست کے ساتھ محمودعباس کی خودمختار فلسطینی انتظامیہ کے براہ راست مذاکرات کو ایک بہت بڑی غلطی اورخطرناک اقدام قراردیا ہے ان فلسطینی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ صہیونی ریاست سے اپنی سرزمین واپس نہيں لی جاسکتی بلکہ اس کے لئے جد وجہد کی ضرورت ہے ۔حماس اورجہاد اسلامی سمیت بہت سی ديگر فلسطینی تنظیموں نے امریکہ کے دباؤ میں کئے جانے والے ان مذاکرات کو فلسطینی تحریک کا خون کئے جانے کے مترادف قراردیا تھا ۔ اوراب جبکہ مذاکرات کی حمایت عرب لیگ نے کردی ہے اورساتھ ہی مشرق وسطی میں امن کے قیام کے بہانے سعودی عرب کے فرمانرواء بھی علاقے کے دورے پرہيں توایسے میں صہیونی ریاست کی طرف سے غزہ کے علاقے پرجہاں حماس کی زیرقیادت فلسطینی عوام کی منتخب حکومت کا مرکزہے وحشیانہ حملہ کیا معنی رکھتا ہے۔ بشکریہ از ریڈیو تہران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
18 اکتوبر 2010 - 20:30
News ID: 197688
لبنان میں شام کے صدر، سعودی عرب کے بادشاہ اور امیر قطر کے سفر کے نتائج کے بارے میں بعض با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ رفیق حریری قتل کیس کی عدالت ان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا اصلی محور رہی ہے۔