18 اکتوبر 2010 - 20:30

کل اسلامی جمہوریہ ایران اوردنیا کے گوشہ و کنار میں انسانیت کے نجات دہندہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے آخری حجت خدا حضرت مھدی موعود علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کا جشن پورے عقیدت و مسرت سے و منایا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں جشن اور محفلوں کا سلسلہ نصف شعبان کی شب ہی سے شروع ہوگيا تھا۔ سارے ملک میں سڑکوں اور گلی کوچوں، گھروں، دکانوں اور سرکاری اور نجی عمارتوں پر چراغاں کیا گيا تھا۔ لوگوں نے ہرگلی کوچے میں اسٹال لگاکر مٹھائياں تقسیم کرنے کا انتظام کررکھا تھا، جگہ جگہ شربت اور ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگي ہوئی تھیں اور لوگ مٹھائياں تقسیم کررہے تھے۔ مشہد مقدس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے فرزند حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کو نہایت خوبصورتی سے سجایا گيا تھا مشہد میں کوئي ایسی جگہ نہ تھی جہاں چراغاں نہ کیا گيا ہو۔ زائرین کے لئے خاص سہولتیں فراہم کی گئي تھیں خاص طور سے شدید گرمی کے پیش نظر شربت اور ٹھنڈے پانی کا نہایت مناسب انتظام تھا۔ مشہد مقدس میں اس موقع پر بیس لاکھ کے قریب زائرین کا مجمع تھا۔ ادھر قم مقدسہ میں بھی حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے روضے کو بھی نہایت خوبصورتی سےسجایا گيا تھا۔ ایران کے تمام شہروں اور قریوں کی مسجدوں، امام بارگاہوں اور مقدس مقامات نیز مراجع کرام اور علماء عظام کے گھروں میں محافل قصیدہ خوانی کا بھرپور اہتمام کیا گيا تھا اور لوگ جوق درجوق ان محفلوں میں شریک ہورہے تھے۔ عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کربلائے معلی میں تیس لاکھ کے قریب زائرین موجود ہیں جو اپنے امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت باسعادت پرخوشیاں منا رہے ہیں۔ نجف اشرف میں بھی لاکھوں زائرین کا مجمع ہے؛ سامرا اور کاظمین میں بھی لاکھوں زائرین موجود ہیں۔ یادرہے پندرہ شعبان کو کربلائے معلی میں دسیوں لاکھ زائریں آتے ہیں۔ ادھر شام و لبنان میں بھی اھل بیت اطہار علیھم السلام کے عقیدت مندوں نے پندرہ شعبان کے جشن بڑی عقیدت و احترام سے منائے اور ہندوستان اور پاکستان میں بھی شب برات کے جشن روایتی جوش وجذبے سے منائے جانے کے ساتھ ساتھ حضرت ولی عصرعج اللہ تعالی فرجہ الشریف کے یوم ولادت کا باسعادت کا جشن انتہائی جوش وخروش اورعقیدت احترام کے ساتھ منایا گیا اور محافل میلاد کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110