17 اگست 2010 - 19:30

عراق کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے پچھلے دنوں بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی سے ملاقات کی ہے ۔

اسی سلسلے میں عراق کے موجودہ وزیراعظم نوری مالکی اورحکومت قانون اتحاد کے سربراہ نوری مالکی نے بھی سنیچر کونجف اشرف میں آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں نوری مالکی نے ملک کی تازہ ترین سیاسی صورت حال اورآئندہ کی حکومت سازی کے بارے میں ہونےوالی پیش رفت  اورديگرگروہوں کے ساتھ اپنے مذاکرات کی تفصیلات سے آيت اللہ سیستانی کوآگاہ کیا ۔ آیت اللہ سیستانی سے نوری مالکی نے ایک ایسے وقت ملاقات کی ہے جب کچھ دنوں قبل العراقیہ کے سربراہ ایادی علاوی بھی نجف اشرف جاکر آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کرچکے ہيں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عراق کے حالیہ انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرنے والے گروہ، حکومت سازی کے لئے سیاسی مذاکرات کی راہ میں پائی جانی والی رکاوٹوں کودورکرنے کے لئے مراجع کرام کے کردار اوران کی رہنمائیوں کا سہارا لینا چاہتے ہيں اگرچہ آیت اللہ سیستانی نے ابھی تک کسی بھی سیاسی گروہ کی حکومت سازی کے تعلق سے حمایت کا اعلان نہيں کیا اوراس بات پرزوردیا ہے کہ مرجعیت اس معاملے میں غیرجانبدار ہے لیکن ساتھ ہی وہ اس بات پرتاکید فرمارہے ہيں کہ عراق کی آئندہ حکومت کی تشکیل کے لئے اقدامات تیزکئے جائيں ۔ جلد سے جلد حکومت سازی کے عمل کے بارےمیں آیت اللہ سیستانی کی تاکید کے پیش نظر سیاسی گروہوں اورخاص طورپرنوری مالکی کے اتحاد، حکومت قانون اورعمار حکیم کے اتحاد نیشنل الائنس کے مابین صلاح ومشورے کا عمل تیزہوگیا ہے ۔ اس دوران یہ بھی خبر ہے کہ کردوں اورشیعوں کے اتحاد کے درمیان بھی مذاکرات کا عمل جاری ہے ۔ عراق کے اکثرسیاسی گروہ اورخاص طورملکی سیاست میں اثررکھنے والی بڑی جماعتوں کی کوشش ہے کہ سیاسی بات چیت کے دائرہ کارمیں جتنی جلدی ہوسکے ایک قومی حکومت کی تشکیل کا راستہ ہموارکرلیاجائے ۔تمام شیعہ  اورکرد گروہوں کی یہی کوشش ہے کہ عراق میں بننے والی آئندہ حکومت ملک کی تمام اقوام ومذاہب اورقبائل وقومیت کی سمبل وعلامت ہو اورصحیح معنوں ميں اسے قومی وفاق  کی حکومت کہا جائے۔ اسی لئے ان کی یہ کوشش ہے کہ حکومت سازی اورکابینہ کی  تشکیل کے لئے سبھی گروہوں کا اتفاق رائے حاصل کريں کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ کسی بھی کشید گی اوراختلاف کے بغیر ایک قومی وفاق کی حکومت برسرعمل آسکتی ہے ۔ اس مقصد کوعملی جامہ پہنانے میں جہاں بات چیت کا عمل بہت ہی موثر ہے وہیں سیاسی گروہوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت سازی کے عمل میں پائی جانی والی رکاوٹوں کودورکرنے میں مراجع کرام کا کردار بھی فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے اسی لئے عراق کے سبھی سیاسی گروہوں کے رہنما نجف اشرف جاکرآیت اللہ سیستانی سے خاص طورپرملاقات اور اس امرمیں ان کی نظرمعلوم کرنے کی کوشش کررہے ہيں ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110