آیت اللہ احمد جنتی نے حسب معمول نمازکے خطبوں کے آغازمیں نمازیوں کوتقوای الہی اختیارکرنے کی سفارش کرتے ہوئے گناہوں سے دوررہنے کی نصیحت کی ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے نمازجمعہ کے پہلے خطبے میں شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے یوم شہادت کی مناسبت سے جوتین جمادی الثانی کی تاریخ تھی تعزیت پیش کرتے ہوئے فدک کے تعلق سے شہزادی کونین کے خطبے کا ذکرکیا اور کہاکہ یہ خطبہ بہت ہی اہم ہے اس خطبے کوبے شمار سنی شیعہ علماء نے نقل کیا ہے ۔ آیت اللہ جنتی نے کہا کہ اس خطبے کوشقشقیہ زہرا(س) بھی کہا جاسکتا ہے انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح سے حضرت علی علیہ السلام نے خطبہ شقشقیہ میں اپنا درد دل بیان کیا تھا حضرت زہراسلام اللہ علیھا نے بھی اس خطبے میں اپنا درد دل اوراپنے اوپرپڑنےوالے مصائب کوبیان کیا ہے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ فدک حضرت پیغمبراسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیت تھا یہ باغ یہودیوں نے پیغمبراسلام کوہدیہ کیا تھا مگرآنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسے غصب کرلیا گیا جب شہزادی کونین کواس بات کا علم ہوا توآپ دربارخلافت میں گئيں اوربعض روایتوں میں ہے کہ مسجد ميں گئیں جہاں غصب کرنےوالے بیٹھے ہوئے تھے آپ کچھ خواتین کوبھی اپنے ساتھ لے گئيں ۔ شہزادی کونین اپنا حق لینے کے لئے وہاں گئي تھیں کیونکہ حق لینے کی بڑی تاکید ہوئی ہے روایتوں میں یہاں تک ملتا ہے کہ جواپنا حق لیتے ہوئے ماراجائے وہ شہید ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس باغ سے غریبوں کی مدد ہوتی تھی اس لئے بھی آپ اسے واپس لینے کے لئے تشریف لے گئيں ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ حق مانگنے کے لئے جوآّپ تشریف لے گئيں اس کے پیچھے اصل ولایت کوبیان کرنا بھی مقصود اورولایت کے حق کواجا گر کرنا بھی مقصد تھا ۔ روایتوں میں ملتا ہے کہ جب سیدہ عالمیان وہاں پہنچيں توپردے کے پیچھے آپ پرگریہ کی کفیت طاری ہوگئي ۔ ماجراء دیکھ کرسب گھبرا گئے پھر کچھ دیر بعد آپ نے اپنا خطبہ شروع کیا جس کے آغازمیں حمد خداوندعالم ہے اس کے بعد قرآن کریم سے مربوط مطالب ہيں اس کے بعد شہزادی کونین نے اپنےاسلام پھیلانے میں اپنے پدربزرگوار کی مشقتوں زحمتوں اور کاوشوں کے بارے میں باتيں کیں کہ آپ نے اسلام کوپھیلانے میں کتنی زحمتيں برداشت کیں ۔ شہزادی نے وہاں موجود مسلمانوں اوراپنے مخاطبین کوخطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ کیا تھے اوراب کیا ہوگئے اس کے بعد شہزادی کونین نے پیغمبراسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی مدد ونصرت کی پوری تاريخ بیان کی ۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگوں پرذمہ داری عائد ہوتی کہ اسلام کوپھیلاؤ اسی طرح بیٹھے رہنا صحیح نہيں ہے ۔ اس کے بعد شہزای کونین نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو سنومیں محمد مصطفے (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی بیٹی ہوں جس نے تم تک اسلام پہنچایا ہے ۔ اس خطبے میں آپنے فرمایا کہ تم لوگ تو آتش جہنم کے دہانے پرتھے خدا نے اپنے پیغمبرکوبھیج کرتم لوگوں آتش جہنم ميں گرنے سے بچالیا تم لوگ دوسروں کے پیروں تلے روندے جارہے تھے میر ے بابا نے تم لوگوں کونجات دی اورتم اونٹ کی کھال کھا کرزندہ رہتے تھے کیونکہ تم کوکھانے کوکچھ بھی نہيں دیا جاتا تھا تم لوگوں کومعاشرے میں کوئی اہمیت حاصل نہيں تھی ۔اب جبکہ تمہاری ساری عزت ومنزلت میرے بابا اورمیرے بابا کے دین کی وجہ سے ہے تواب تم فاطمہ کی ملکیت کوغصب کررہے ہو اوریہ کہہ رہے ہو پیغمبرکسی کومیراث نہیں دیتا کیا تم نے قرآن نہيں پڑھا ہے کہ سلیمان وداؤد نے میراث کے حکم پراجراء کیا ہے ۔ تم لوگ کتاب خدا کوکیوں کنارے لگا رہے ہو۔شہزادی کونین نے ان لوگوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کیامیرادین وہی نہيں ہے جومیرے بابالائے تھے کیا تم اسی دین کے پیرونہيں ہو؟تہران کے خطیب جمعہ نے کہا شہزادی کونین نے اس خطبے میں فرمایا کہ لو یہ خلافت کا اونٹ تمہارے سامنے ہے اس پرسوار ہوجاؤ تمہارا حساب قیامت میں ہو گا اوروہاں سارا حساب وکتاب پیغمبرکے سامنے ہوگا ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا شہزادی کونین نے پورا خطبہ پڑھا مگروہاں موجود افراد پرجنھوں نے شہزادی کونین کا حق غصب کیا تھا اس کا کوئی اثرنہیں ہوا ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا نے ایسے ایسے مصائب برادشت کئے کہ پہاڑ پرپڑتے تووہ پانی ہوجاتے ۔ اسی لئے جب بی بی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیغمبرکے بعد خاندان نبوت میں پہلی شخصیت ہوں گی اس دنیا سے رخصت ہوں گی تووہ خوشحال ہوجاتي ہيں ۔تہران کے خطیب جمعہ نے نمازکے دوسرے خطبے میں تیئس مئی فتح خرمشہر کی تاریخ کی آمد کی مناسبت سے ایرانی عوام کومبارکباد پیش کی انھوں نے کہاکہ ایرانی عوام نے عظیم کارنامہ انجام دیا البتہ خداوندعالم کی بے پناہ نصرت کی بدولت، اسی لئے امام خمینی نے فرمایا تھاکہ خرمشہرکوخدا نے آزاد کرایا تہران کے خطیب جمعہ نے ایٹمی ایندھن کے تبادلے کے فارمولے پرہونےوالے سہ فریقی سمجھوتے پرایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ یہ بہت ہی اہم اقدام ہے اورسفارتی میدان میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ انھوں نے کہاکہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی حکام نے متعدد اہم اقدامات کئے ہيں جن میں سے ایک ترک اسلحہ کانفرنس اوراسی طرح نیویارک میں این پی ٹی کانفرنس میں صدرمملکت کا خطاب اورپھر یہ سہ فریقی سمجھوتہ ۔ انھوں نے کہاکہ ہم برازیل اورترکی جیسے اپنے دوست ملکوں کا بھی شکریہ اداکرتے ہيں جنھوں نے یہ سمجھوتہ کرکے امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے منہ پرزوردار طمانچہ رسیدکیا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ مغرب والے بھی جانتے ہں کہ حقیقی معنوں میں جوملک اٹمی ہتھیاروں کی تباہی کا خواہاں ہے وہ ایران ہے نہ کہ امریکہ انھوں نے کہاکہ پہلا ایٹمی مجرم امریکہ ہے ، تہران کے خطیب جمعہ نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے ميں امریکہ اورمغرب کے پروپيگنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایٹمی ایندھن کے تبادلے کی تجویزخود مغرب نے ہی دی تھی مگراس کے بعد بھی وہ اس پرمنفی ردعمل کا اظہار کررہا ہے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ جس طرح سے اس اعلامیہ کا مسودہ تیار کیا گیا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے انھوں نے کہاکہ ایران کا یورینیم ترکی میں بطورامانت رہے گا مقابل فریق نے اگربیس فیصد افزودہ یورینیم تہران کے حوالے کیا توایٹمی ایندھن کا تبادلہ ہوگا اوراگرانھوں یعنی مغربی ملکوں نے بیس فیصد افزودہ یورینیم نہ دیا توپہلی فرصت میں ایران اپنا یورینیم ترکی سے لے آئے گا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ اس اتفاق رائے سے امریکہ اوراس کے چند اتحادیوں کی ہرطرح کی بہانہ بازیوں کوختم کردیا گیا ہے۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اس اعلامیہ میں جس طرح کی شرائط رکھی گئي ہيں وہ مجبورہیں کہ قبول کریں اوراگروہ قبول کرلیتے ہیں تواس صورت میں ایران کی یہ فتح ہوگی وہ اب تک ایران کے بارے میں جتنی بھی باتیں کرتے تھے وہ سب کے سب بے بنیاد تھیں اوراگرانھوں نے قبول نہ کیاجس کا امکان بھی پایا جاتا ہے اس صورت میں دنیا پرواضح ہوجائے گا امریکہ ایران کے بارے میں کسی اورچیزکے درپئے ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ نہيں چاہتا کہ ایران ایک اسلامی ملک کی حیثیت ترقی کرے اورایٹمی ٹکنالوجی پربڑی طاقتوں کی اجارہ داری ختم ہوجائے ۔
..........
/110