5 نومبر 2026 - 15:32
انتخابی شکست نے ٹرمپ کو ایران کے معاملے میں تعطل سے دوچار کیا

خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ دی کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست اور کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست اور کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول نے ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے؛ اور اب وہ جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدے تک پہنچنے یا فوجی تنازع کو مزید خطرناک حد تک بڑھانے کے درمیان پھنسا ہؤا ہے۔

روئٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ اس ملک کی سیاسی نظام کی تبدیلی کے مقصد سے شروع کی، لیکن آخرکار واشنگٹن میں اس کی اپنی سیاسی حیثیت ہی متزلزل ہو گئی؛ کیونکہ جنگ سے تھکے ہوئے اور ایندھن کی شدید قیمتوں میں اضافے کے دباؤ تلے کچلے ہوئے رائے دہندگان نے کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے حوالے کر دیا۔

اس صورتحال نے امریکہ کے کمزور شدہ صدر کو ایک مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کر دیا ہے: مذاکرات کے ذریعے جنگ سے نکلنا یا تنازع کو مزید خطرناک حد تک بڑھانے کی طرف بڑھ کر پہلے سے زیادہ بڑے ممکنہ خطرات مول لینا۔

اس رپورٹ کے مطابق، تہران میں اور ایران کے اتحادیوں کے درمیان، امریکی انتخابات کے نتیجے کو فوری طور پر 'امریکی عوام کا جنگ کے خلاف ووٹ' قرار دیا گیا۔

خلیج فارس کے کنارے واقع ریاستوں میں بھی حکام اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کون سا راستہ چنتا ہے!

خلیج فارس میں امریکہ کی ایک اتحادی ریاست کے ایک قریبی ذریعے نے انتخابات کے نتائج پر پہلے ردعمل میں کہا: "ٹرمپ نے ایران میں نظام تبدیل کرنے کے لئے اس ملک پر حملہ کیا، لیکن یہ ایران تھا جس نے امریکہ کا نظام تبدیل کر دیا۔"

اس ذریعے کے مطابق، خلیج فارس کی ریاستوں کے حکام کو ـ منگل کے روز امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی زبردست جیت کی وسعت سے ـ اتنا شدید جھٹکا لگا ہے کہ انہوں نے چپ سادھ لی ہے۔

انتخابی شکست نے ٹرمپ کو معاہدے کا شوقین بنایا

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا: امریکہ ایران پر حملے کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور کوئی حتمی نتیجہ اور اعلان شدہ اہداف میں سے کوئی ہدف حاصل نہ کر سکا، اور آخرکار ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ بھی ـ امریکہ کے لئے ـ حل نہیں ہو سکا۔

خلیج فارس کی ریاستوں کے حلقوں کے قریبی دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ کی حیثیت کمزور ہو گئی ہے، کانگریس کے دونوں ایوان ڈیموکریٹس کے کنٹرول میں آئے ہیں، جس سے اس کے فوجی آپشنز محدود ہو سکتے ہیں، چنانچہ ٹرمپ معاہدے تک پہنچنے کا زیادہ شوقین ہو گیا ہے۔

ان ذرائع کے مطابق، ایران پر اب مکمل حملے کا امکان کم نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر مزید حملے امریکہ کے لئے اس دعوے تک کا راستہ ہو سکتے ہیں کہ بس امریکہ اس جنگ میں فاتح ہو گیا ہے اور یوں تنازع کے خاتمے کا اعلان کر دے؛ لیکن دوسری طرف چین نے بھی ثالثی اور معاہدے تک پہنچنے کی اپنی کوششیں بڑھا دی ہیں، اور چین کی ثالثی کی صورت میں معاہدوں کی خلاف ورزی میں ٹرمپ کی آزادی محدود ہو جائے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق، امریکی ووٹرز نے ایسے حال میں ٹرمپ پر عملی سرزنش کی ہے کہ صرف ایک ہفتہ پہلے اسرائیلی ووٹرز نے بھی جنگ کے دوسرے معمار یعنی صہیونی رجیم کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر کاری ضرب لگائی تھی۔ 27 اکتوبر کے انتخابات میں ان کے دائیں بازو کا بلاک کنیسٹ کی کل 120 نشستوں میں سے صرف 53 نشستیں حاصل کر سکا اور اقتدار برقرار رکھنے میں مشکل سے دوچار ہؤا۔

اب ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں سیاسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا سیاسی مستقبل پہلے سے زیادہ جنگ کے نتیجے سے جڑا ہؤا ہے، چنانچہ ممکن ہے وہ تنازع کو مزید بڑھانا خطرہ نہیں بلکہ اپنا سیاسی تعطل توڑنے کا راستہ سمجھیں! تاہم ماہرین کے مطابق ایسی سوچ انتہائی نامعقول اور اتنی ہی خطرناک ہے؛ کیونکہ یہ حملہ بھی یکطرفہ نہیں ہوگا اور ایران جوابی کاروائیاں کرے گا اور ایرانی کاروائیوں کی سطح، پھیلاؤ اور شدت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

غلط اندازوں کا خطرہ

ابوظہبی میں امارات پالیسی سینٹر کی سربراہ "ابتسام الکتبی" نے کہا: "امریکی انتخابات کے نتائج نے ٹرمپ کے لئے معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔"

الکتبی نے کہا کہ خلیج فارس کے کنارے واقع ریاستوں کو توقع ہے کہ امریکی انتخابات کے نتائج جنگ ختم کرنے کا راستہ کھولیں گے۔

روئٹرز کے مطابق، تہران نے امریکی کانگریس کے انتخابات کے نتیجے کو اہمیت نہیں دی، اور اپنی چوکسی اور تیاری کی سطح برقرار رکھی ہے، اور ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکی انتخابات کا پیغام "جنگ نامنظور" ہے اور امریکی عوام نے اس جنگ کو ایک بار پھر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے دو سینئر ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران اب بھی اعلیٰ سطح کی تیاری کی حالت میں ہے کیونکہ وہ اس امکان کو مدنطر رکھتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی انتخابی شکست کی تلافی کے لئے فوجی حملے کا سہارا لے سکتا ہے۔

ڈیموکریٹس کی ممکنہ تفتیش کا خدشہ

لبنانی سیاسی تجزیہ کار، سارکیس نعوم، نے بھی کہا کہ ٹرمپ کی شکست نے ایران کے سامنے اس کی سودے بازی کی طاقت کم کر دی ہے اور مذاکرات کی میز پر واشنگٹن کے دباؤ کے اہم ذرائع اور معاہدے تک پہنچنے کے لئے اس ملک کے آپشنز محدود کر دیئے ہیں۔

لبنان کی حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے بھی کہا: جنگ کا خطرہ لازماً کم نہیں ہؤا اور اب بھی "غیر سوچے سمجھے اقدامات" کا امکان موجود ہے؛ اور موجودہ حالات میں کشیدگی بڑھنے اور کم ہونے کا امکان برابر (50 - 50) نظر آتا ہے۔

نئی کانگریس جنوری 2027 میں باضابطہ طور پر کام شروع کرے گی اور توقع ہے کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کی حکومت، اہل خانہ اور اتحادیوں کے بارے میں تحقیق و تفتیش کے لئے اپنی طاقت استعمال کریں گے اور حکومت سے رعایتوں کا مطالبہ کریں گے۔

دوسری طرف، روئٹرز نے لکھا، واشنگٹن میں سیاسی توازن کی تبدیلی خلیج فارس کی ریاستوں میں امریکہ کے اتحادیوں کے لئے موجودہ جنگ سے بڑھ کر خطرات لے کر آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ریاستیں ڈیموکریٹس کی ممکنہ تفتیش کے بارے میں بھی فکرمند ہیں جو ٹرمپ کے اہل خانہ کے ساتھ ان ریاستوں سے متعلق اداروں کے تجارتی سودوں کے حوالے سے ہو سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیدا فرہادیان پور

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha