4 نومبر 2026 - 19:42
جھک جانے کی طرف کم از کم رجحان بھی مستکبر دشمن کو جری کر دیتا ہے، رہبر انقلاب

انقلاب اسلامی رہبر معظم نے عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن [13 آبان = 4 نومبر] کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا: شیطانِ اکبر کی آرزو ایرانی قوم کا غیر مشروط پسپا ہونا [اور ہتھیار ڈالنا]ہے، اور تسلط پسند دشمن کی طرف سرتسلیم خم کرنے کا کم سے کم رجحان بھی اس عظیم سرمائے کو ضائع کر دیتا ہے جو شہداء کے خون اور پوری قوم کی قربانیوں کی برکت سے حاصل ہؤا ہے، اور یہ رجحان مستکبر دشمن کو مزید زیادَہ طَلَبی، ہور مستقبل میں جنگوں اور گستاخیوں کے لئے مزید جری کر دے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ انقلاب اسلامی رہبر معظم حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

ان کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کا قومی دن ہے؛ اور یہ وہ دن ہے جس میں حق کے محاذ کے باطل کے محاذ کے مقابلے میں، اور  ظالم محاذ کے مقابلے میں مظلوم محاذ کی صف آرائی کے متعدد اہم موڑ مجتمع ہوئے ہیں۔ شاید یہ کہا جا سکے کہ اس سال 13 آبان پر ایرانی قوم اپنے اور مجرم امریکہ کے باہمی معاملے کو ہر سال سے زیادہ واضح اور شفاف طور پر جانتی ہے، لیکن امریکہ کی بڑھتی ہوئی دشمنی کی جڑوں، وجوہات اور اہم موڑوں کا جائزہ اور ایرانی قوم کی اس کے مقابلے میں مضبوط صف آرائی اس راستے کے مستقبل کا چراغ ہے۔

ایرانی قوم پر امریکی ظلم کی جڑیں، سات دہائیوں سے زیادہ پہلے تک جاتی ہیں

امریکہ کا ایرانی قوم پر ظلم کا نقطۂ آغاز سات دہائیوں سے زیادہ پہلے تک جاتا ہے؛ جب اس نے قومی وسائل اور سرمایوں خصوصاً تیل کی لوٹ مار جاری رکھنے کے لئے 19 اگست (1953) کی بغاوت برپا کی۔ بعد کی دہائیاں اسلامی انقلاب کی کامیابی تک بھی وہی زمانہ تھا جس میں امریکی حکمرانوں نے ایرانی قوم کے اثاثے لوٹنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ اس راستے میں ساواک [نامی خفیہ ایجنسی] کے قیام اور معاشرے پر بھاری سکیورٹی ماحول مسلط کر کے انھوں نے اس وقت کی ظالم حکومت کا ہاتھ ہر احتجاجی تحریک کچلنے کے لئے کھول دیا۔

اسلامی انقلاب کی شاندار کامیابی کی آمد آمد پر بھی انہوں نے اپنی کٹھ پتلی حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کئے۔

ایران کی عظیم قوم کی کامیابی کے بعد کے دور میں ان کے دشمنانہ رویے سے بھی ان کی عوام دشمن کارروائیوں کی ایک طویل فہرست پیش کی جا سکتی ہے، جس میں علیحدگی پسند گروہوں، باغیوں اور بے رحم منافقوں کی [امریکی] حمایت شامل ہے جو علمی، سیاسی اور سماجی دانشوروں، علماء اور سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد کو بھی بے رحمی سے شہید کرتے تھے؛ پہلی مسلط کردہ جنگ میں [عراق کی] "بعث پارٹی" کی براہ راست اور ہمہ جہت حمایت، مسافر طیارے کے عام مسافروں کا قتلِ عام، طویل اور بھاری اقتصادی پابندیاں، متعدد فسادات اور فتنوں کی منصوبہ بندی اور حمایت اور یہاں تک کہ انہیں ہتھیاروں کی فراہمی، ایرانی قوم اور اسلامی امت کے ہیرو الحاج قاسم سلیمانی کا قتل، مختلف ممالک میں ایرانی قوم کے اموال اور اثاثوں کی چوری؛ اور آخر میں دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے دوران براہ راست فوجی جارحیت اور بڑی تعداد میں علماء، دانشوروں اور سائنسدانوں، کمانڈروں اور ایران کے مظلوم عوام کی بھاری تعداد ـ بشمول ـ نومولود بچوں اور کم سن بچوں سے لے کر بزرگوں ـ اور ان سب میں سر فہرست اسلامی انقلاب کے عظیم القدر رہبر (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) ـ کی شہادت اس طویل فہرست میں شامل ہیں۔

مستکبر امریکی حکام اور ان کے پیروکار ہمیشہ اپنا تسلط جمانے اور ایران کو تسلیم کرانے کے درپے رہے ہیں

ان تمام مراحل میں، امریکہ کے مستکبر حکمران اور ان کے پیروکار ہمیشہ اپنا تسلط جمانے اور ایران کو تسلیم کرانے کے درپے رہے ہیں، اور یہاں تک کہ اس زور زبردستی کے آخری نسخوں میں وہ بین الاقوامی سطح کے تمام جھوٹے اور مکارانہ آداب و ظواہر تک کو ایک طرف رکھ کر انتہائی بے شرمی سے ملک کی تقسیم، قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا، نظام کے خاتمے اور ایران کی حقیقی اور قدیم تہذیب کی تباہی کے درپے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر مرحلے میں انہیں میدانی حقیقت کی مضبوط دیوار اور ایران کی غیرت مند قوم کے عزم کی پختہ چٹانوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے غلط اندازوں اور استکباری وہمیات کا نتیجہ امریکی عوام اور امریکی حکومت کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے کندھوں پر عائد بھاری اخراجات کے بوجھ میں ملا دیا۔

نہ صرف 13 آبان بلکہ تمام دن اور گھنٹے شیطانِ اکبر کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کے دن بن گئے ہیں

آج ایران کی مسلمان قوم کے ساتھ امریکہ کی پرانی دشمنی کی کہانی، اور اس دشمن کے مقابلے میں  تمام ایرانیوں کی غیرت مندانہ مزاحمت اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ نہ صرف 13 آبان بلکہ [سال کے] تمام دن اور گھنٹے شیطانِ اکبر کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کے دن بن گئے ہیں۔

اب خلیج فارس ـ خصوصاً آبنائے ہرمز ـ کے منظر نے نہ صرف امریکہ کی ناقابلِ شکست ہونے کے جھوٹے افسانے کو باطل کر دیا ہے، وہاں اس نے ان حکومتوں کی کمزوری اور ذلت کو بھی عیاں کرکے رکھ دیا ہے، جو اپنی قوم کے بجائے، دوسری طاقتوں پر بھروسہ کرتی ہیں، نیز یہ بڑی طاقتوں کی اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کے دفاع کے حوالے سے بھی، بے وفائی اور بے بسی کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔

جارحیت کے اعادے کی صورت میں ایران کا جواب بہت زیادہ وسیع جہتیں اختیار کر لے گا

آبنائے ہرمز پر ایرانی انتظام کا نفاذ اور خطے کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ، اگرچہ تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکی جارحیت اور جرائم کے ردِ عمل میں وقوع پذیر ہؤا، لیکن ساتھ ہی یہ علاقائی جہتوں میں، استکبار کے خلاف ایک ابتدائی جہاد بھی سمجھا جاتا ہے جو جارحیتوں کے اعادے کی صورت میں بہت وسیع جہتیں اختیار کر لے گا۔

پسپائی اور ہزیمت دشمن کا یقینی انجام ہے

طاقت و مضبوطی کی یہ علامت، ـ محاذ حق کے تمام میدانوں کے اتحاد، اور فلسطین سے لبنان، عراق اور یمن تک محور مقامت (محاذ مزاحمت) کی دانشمندانہ اور طاقتور حماسہ سازی کے ساتھ مل کر ـ محاذ حق کے پرچم کی بلندی اور نئے عالمی نظام کے لئے ماحول سازی کا ایک روشن اور امید افزا، پیش خیمہ ہے؛ کیونکہ جب بھی محاذ حق کے کے پاس توکل، استقامت اور قربانی [جیسے ہتھیاروں] سے لیس ہو، باطل کا محاذ جو کوئی بھی ہو، جو کچھ بھی، کسی بھی طاقت، صلاحیت کے ساتھ بھی، اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا اور پسپائی اور شکست اس کا یقینی انجام ہے، کیونکہ ﴿إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾۔

بحمداللہ ایران کی قوم نے خالص محمدیؐ اسلام کی تعلیمات، اسلامی انقلاب کے معارف اور اپنے حکیم قائدین خمینی کبیر اور خامنہ ای شہید (اعلیٰ اللہ مقامہما الشریف) کے مکتب سے عظیم اسباق بخوبی سیکھ لئے ہیں اور الٰہی وعدوں کی تکمیل اور اس راستے کی حقانیت پر اس کا ایمان روز بروز گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آج امریکہ کی طاقت اور تسلط، مستکبروں کی خود پیدا کردہ رسوائی کے نتیجے میں ـ سخت فوجی طاقت اور بین الاقوامی نرم طاقت دونوں جہتوں میں ـ ناقابلِ تلافی زوال کا شکار ہو چکا ہے اور اس کے خاتمے کا عمل تیزتر ہو گیا ہے۔

امریکی رویے میں تبدیلی کا تصور [و توقع] ایرانی قوم کی فتوحات کی ناشکری

اگر اب بھی کچھ لوگ ہیں جو تسلط پسند [استکباری] نظامِ میں رویے کی تبدیلی یا جماعتی اور گروہی تبدیلیوں سے تھوڑی سی امید رکھتے ہیں، یا یہ تصور کرتے ہیں کہ امریکہ کو رعایتیں دے کر اسے ایرانی قوم سے دشمنی سے باز رکھا جا سکتا ہے، تو وہ سخت غلطی پر ہیں۔ یہ باطل تصور ان عظیم فتوحات کی ناشکری ہے جو مسلمان ایرانی قوم نے توکل، استقامت اور مجاہدت کے سائے میں حاصل کی ہیں۔

پسپائی اور سر خم کرنے کی صرف کم از کم رجحان بھی، دشمن کو مزید جری کر دیتا ہے

شیطانِ اکبر کی آرزو ایران کی قوم کی غیر مشروط پسپائی اور سرتسلیم خم کرنا ہے، اور تسلط پسند دشمن کی طرف سرتسلیم خم کرنے کا کم سے کم رجحان بھی اس عظیم سرمائے کو ضائع کر دیتا ہے جو شہداء کے خون اور پوری قوم کی قربانیوں کی برکت سے حاصل ہؤا ہے، اور یہ رجحان مستکبر دشمن کو مزید زیادَہ طَلَبی، ہور مستقبل میں جنگوں اور گستاخیوں کے لئے مزید جری کر دے گا۔

"زیادہ سے زیادہ قوی ایران" کی حکمتِ عملی کا تسلسل ہی مطلق بازداری (ڈیٹرنس) کے نقطے تک پہنچنے کا واحد راستہ

مطلق بازداری (تسدید = Deterrence) کے نقطے تک پہنچنے کا واحد راستہ "زیادہ سے زیادہ قوی ایران" کی حکمتِ عملی کا، ہمہ جہت ترقی کی راہ پر گامزن رہنا ہے؛ اور سماجی یکجہتی، اتحاد اور ہم آہنگی اس راستے میں کامیابی کا بنیادی عنصر ہے جس کو قوم اور حکام میں سے ہر فردی اور سماجی کلام  پر حکم فرما ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں جہاں حکام کی جانب سے قوم کی حمایت ایک امرِ لازم ہے، وہاں حکام کی جانب سے دوہری اور جہادی خدمت، عوام کے ساتھ خلوص، ان کو معیشت اور آسائش کی فراہمی، مادی اور روحانی ترقی اور ان کی عزت اور آزادی کا تحفظ بھی اہمیت رکھتا ہے۔

پیارے ایران کے روشن اور شاندار مستقبل کی تعمیر کے لئے پیش رو طبقہ ہمارے نوجوان، طلبہ اور اسکول کے بچے ہیں جنہیں تسلسل کے ساتھ "مایوسی اور ناامیدی اور عدم امکان (اور نہ ہو سکنے)" کے تاریک گھونسلے کی تسخیر تباہی اور "امید" اور "'ہم کر سکتے ہیں" کے روشن گھر کو فتح کرنے کے درپے رہنا چاہئے۔ اس مشن کے لئے غیر معمولی استعداد اور علم، تقویٰ، مہارت، اخلاق، عزم و ارادے اور غیر معمولی محنت کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہونا، اور بلند اہداف تک پہنچنے کے لئے "ہم عہد" ہونا ضروری ہے۔

امید ہے کہ اللہ کے فضل اور ہمارے سرور (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشریف) کی دعا سے، ایرانی قوم جلد از جلد کامیابی، سعادت اور ہمہ جہت ترقی کا تجربہ کر لے گی، اور شیطانِ اکبر کے تسلط کے زیادہ سے زیادہ اور تیز رفتار زوال کے اسباب فراہم ہوں گے۔

﴿إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا﴾ ﴿وَنَرَاهُ قَرِيبًا﴾"

سیّد مجتبی حسینی خامنہ ‌ای

13/آبان/1405 ہجری شمسی / 4 نومبر 2026ع‍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha