بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی وزیر دفاع، پیٹ ہیگستھ، اب عوام اور واشنگٹن کے سیاسی حلقوں کی جانب سے پہلے سے کہیں زیادہ کڑی جانچ پڑتال کی زد میں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس دفاعی سربراہ کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے؛ جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی بڑے پیمانے پر برطرفی، پینٹاگون کے اندرونی اختلافات، ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر تنقید، اور یہاں تک کہ باراک اوباما کی جانب سے موجودہ انتظامیہ کا تمسخر، شامل ہیں۔
یہ ایسا بحران ہے جس کی جڑ اس حقیقت میں پیوست ہے کہ امریکی طاقت کی تشہیری نمائش اور میدانِ جنگ کے حقائق کے درمیان فاصلہ بہت طویل ہو گیا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے، ـ جو جارحانہ لہجے، فوجی طاقت کی نمود و نمائش اور امریکی فوج کی قوت کے بارے میں بلندبانگ نعروں کے ساتھ ـ وزارتِ جنگ کا قلمدان سنبھال لیا، اب اپنی کارکردگی کے بارے میں سنجیدہ سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔
وہ شخص جس کو ٹرمپ انتظآمیہ کی فوجی طاقت کی علامت بننا تھا، اب ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی فوجی اور تزویراتی ناکامیوں کے بارے میں بحث و جدل کا ایک اہم نقطہ بن گیا ہے۔
امریکی ذرائع کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیگستھ کے استعفے یا مواخذے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے بھی رپورٹ دی ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریتی نشستیں حاصل کریں تو وزیرِ جنگ کی کارکردگی اور پینٹاگون کے فیصلوں کے بارے میں تحقیقات شروع ہونے کا امکان ہے۔
تاہم ہیگستھ کو اب بھی ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہتا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ