2 نومبر 2026 - 16:22
بقائی: آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک ایران کے مطالبات تسلیم اور ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے اور اس کے مطالبات پر عمل درآمد ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو فیصلہ کرنا ہوگا، کیونکہ سفارتی عمل کی گیند اب اس کے کورٹ میں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر 11 آبان کو ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔

انہوں نے 13 آبان کے دن اور شہدا کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے خطے کی صورت حال پر کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری واقعات کا مرکز بدستور فلسطین ہے، جہاں نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ سب جانتے ہیں کہ خطے میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ صیہونی ریاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست میں انتخابات کے بعد لبنان اور غزہ کے خلاف جرائم میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سردیوں کا موسم قریب آنے کے باوجود فلسطینی بے گھر افراد کے مسائل انتہائی سنگین ہیں۔ عالمی برادری ایک طرح کی بے حسی کا شکار ہوچکی ہے اور ایک خطرناک رجحان جنم لے رہا ہے، جسے قتل عام کو معمول سمجھنے کا رویہ کہا جاسکتا ہے۔

بقائی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جرائم کے خلاف مؤقف اختیار کریں۔ صیہونی حکام کو عالمی سطح پر قانونی کارروائی کا سامنا ہے، لیکن عالمی فوجداری عدالت امریکہ کے شدید دباؤ میں ہے۔

ایران کے پانچ نئے سفیروں کی تقرری

ایران کے مختلف ممالک میں نئے سفیروں کی تقرری کے بارے میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ پانچ نئی تقرریاں کی گئی ہیں۔ قبرص میں شمسی زادہ، برکینا فاسو میں ایک نئے سفیر، جاپان میں ناظری، نیوزی لینڈ میں نجرآبادی اور کرغزستان میں خاتون سفیر ساعی کو مقرر کیا گیا ہے۔

اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی کو خط لکھے جانے سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ خط و کتابت کے انداز میں فرق معمول کی بات ہے، تاہم ایران کے لیے امریکہ کا عملی رویہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اب تک ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس نہ صرف کوئی نیا سفارتی منصوبہ نہیں بلکہ وہ سفارتی کوششوں کو بھی ناکام بناتا رہا ہے۔

بقائی کے مطابق، گزشتہ دو برسوں کے دوران امریکہ نے صرف جنگ کی بات کی ہے اور یا تو جاری سفارتی عمل کو ختم کیا ہے یا ایسے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا تھا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی عمل میں امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار بھی وہی شخصیت تھے جنہوں نے حالیہ خط لکھا ہے۔ اس لیے کسی بھی نئے سفارتی عمل کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے سات روزہ سفارتی منصوبہ پیش کیا تھا، فریق مخالف کا مؤقف بھی سنا اور تحفظات کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس کے باوجود ایران کی جانب سے سفارتی عمل کی تجویز برقرار ہے۔ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور ایران کے مطالبات واضح طور پر پیش کیے جاچکے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جاسکتی جب تک ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی اور اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اس کے بعد ہی سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خط کا جواب کس انداز میں دیا جائے گا، اس کا فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کریں گے۔ سفارتی رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کی بنیاد ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے، جسے مختصر کرکے دو دن میں مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ ایران کی نیک نیتی کا مظاہرہ ہے اور اب سب کچھ امریکہ کے فیصلے پر منحصر ہے۔

قالیباف مذاکراتی عمل کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں

دو روزہ مذاکراتی منصوبے، قطری وفد کے دورہ تہران اور ایران کے نائب وزیر خارجہ کے دورہ دوحہ کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ نائب وزیر خارجہ غریب آبادی کا دورہ دوحہ ایران اور قطر کے درمیان معاملات کو آسان بنانے کے لیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن معاملات انتہائی پیچیدہ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔

بقائی نے کہا کہ امریکہ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ ایران نے اپنے تمام مطالبات معمول کے سفارتی طریقے سے امریکی فریق تک پہنچا دیے ہیں اور ان پر عمل درآمد ہی خطے میں امن و سلامتی کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی جاری رکھتے ہوئے سلامتی کی بات نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ ایران یک طرفہ طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ایران کا یہ اصرار بالکل معقول ہے کہ سلامتی کی بحالی کے لیے پہلے اس کے مطالبات پر عمل کیا جائے۔

مذاکراتی وفد کی تشکیل میں کسی تبدیلی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی وضاحت محسن رضائی کرچکے ہیں اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔ کونسل کے تمام ارکان اپنے اپنے کردار اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی ذمہ داری محمدباقر قالیباف کے پاس ہے۔ انہوں نے فیصلہ ساز اداروں کے درمیان غیر معمولی یکجہتی کا بھی ذکر کیا۔

ایران پر یہود دشمنی کا الزام بے بنیاد ہے

جرمنی، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے ایران پر یہودیوں کے خلاف کارروائیوں کی خواہش رکھنے کے الزامات کے جواب میں بقائی نے کہا کہ ایران پر یہود دشمنی کا الزام عائد کرنا بے بنیاد ہے۔ یہ رجحان یورپ سے تعلق رکھتا ہے اور ایرانی مذہب و ثقافت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ الزام بار بار دہرایا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ بھی بدقسمتی سے اس کی تشہیر کرتے ہیں، حالانکہ ایرانی عوام یہودیوں کے ساتھ انتہائی مہربانی اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔

بقائی نے بتایا کہ صرف یزد شہر میں 14 یہودی عبادت گاہیں موجود ہیں، جبکہ پورے ایران میں ان کی تعداد 100 ہے۔ ایران میں یہودی انبیاء کے مزارات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ یہودیوں کے مقدس مقامات پر ایران میں کتنے حملے ہوئے ہیں؟

انہوں نے یورپ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ وہاں یہودیوں اور ان کے مزارات پر حملوں کی خبریں آئے روز کیوں سامنے آتی ہیں۔ ان واقعات کا ایران سے کیا تعلق ہے؟ یورپی ممالک کو اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق، یورپ میں ایسے بعض واقعات کی وجہ صیہونی ریاست کے جرائم بھی ہیں۔

عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے لیے امریکہ سب سے بڑا خطرہ ہے

ایران کی باقی ماندہ جوہری تنصیبات پر حملے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ ایران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ریکارڈ پر لائے گا، لیکن تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا صرف زبانی بیانات تک محدود ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز ایسی دھمکیوں پر خاموش ہیں۔ ان کے بقول، امریکہ حقیقتاً جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے عالمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

بقائی نے کہا کہ کسی ملک پر حملے کی دھمکی دینا بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی خلاف ورزی کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک امریکہ کے طرز عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ ایران کے خلاف دھمکیاں اس کے اپنے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

امریکہ کے عملی اقدامات ہمارے لیے اہم ہیں

امریکی دھمکیوں کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ ہر دھوکے میں دو فریق ہوتے ہیں؛ ایک دھوکا دینے والا اور دوسرا دھوکا کھانے والا۔ ایران کسی دھوکے میں نہیں آئے گا، کیونکہ گزشتہ دو برس کے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکمرانوں کے درمیان مختلف آرا ہوسکتی ہیں، لیکن امریکی معاشرہ اپنے حکام کے استحصالی رویے سے تنگ آچکا ہے۔ اس لیے یہ بعید نہیں کہ امریکی حکام میں بعض لوگ یہ کہہ رہے ہوں کہ امریکہ اپنی دولت ایسے فریق پر خرچ کر رہا ہے جس کا خطے میں جرائم کے ارتکاب کے سوا کوئی کام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران مختلف آرا کو مدنظر رکھتا ہے، لیکن اس کے لیے امریکہ کے عملی اقدامات زیادہ اہم ہیں۔ امریکہ کے متضاد بیانات نے عالمی برادری کو بھی حیران کردیا ہے کہ آخر امریکہ میں کس سے بات کی جائے؟ کیا تمام راستے تل ابیب پر جاکر ختم ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب امریکہ کو دینا ہوگا۔

ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں

متحدہ عرب امارات کے عہدیدار انور قرقاش کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ اعتماد ایران نے ختم نہیں کیا۔ انسان اپنے کیے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ماضی کی غلط پالیسیوں کو ترک کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سلامتی کے خلاف خطے کے ممالک کی سرزمین استعمال ہونے پر خاموش نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اس کا جواب دیے بغیر رہ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض ممالک نے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

بقائی نے کہا کہ اعتماد کے لیے دونوں فریقوں کا عملی تعاون ضروری ہے۔ ایران خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں رکھتا اور اس کا یقین ہے کہ تمام علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ ایران توقع رکھتا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

کویتی حکومت ایران سے ہمدردی رکھنے والے اپنے شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے

ایرانی شہریوں کے خلاف کویتی حکومت کے الزامات کے بارے میں بقائی نے کہا کہ یہ الزامات مکمل طور پر مسترد کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کویتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ہمدردی رکھنے کی بنیاد پر اپنے ہی شہریوں کو ہراساں کرنا بند کرے۔ ان کے مطابق، ایران کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں اور ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔

ہر صورت حال میں تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار رہنا ضروری ہے

جنگ شروع ہونے کے امکان سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ جنگ پہلے ہی جاری ہے اور ایران کے خلاف ناکہ بندی بھی اسی جنگ کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر صورت حال میں تمام ممکنہ حالات اور منظرناموں کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔

ایران افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے پر رضامند نہیں

ایران سے افزودہ یورینیم باہر منتقل کرنے کے امکان کے بارے میں سوال پر وزارت خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران اس کی اجازت نہیں دے گا۔

ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ پُرامن رہا ہے

ایران کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کے مطالبات کے بارے میں بقائی نے کہا کہ مخالف فریق ذرائع ابلاغ میں جاری بحث و مباحثے کو دیکھ رہا ہے، لیکن ایران کو اس پر مصنوعی ردعمل ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 برس کے واقعات کو دیکھتے ہوئے ایرانی عوام کے ذہنوں میں ایک جائز سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کو ثابت کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کیں، اس کے باوجود مخالف فریق مسلسل بہانے تلاش کرتا رہا ہے۔ اسی مخالف فریق نے اس شخصیت کو بھی شہید کیا جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کی ممانعت کا فتویٰ دے چکی تھی۔

بقائی نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ پُرامن رہا ہے اور آئندہ بھی پُرامن رہے گا۔ مخالف فریق کی جانب سے مسلسل ایران کو خطرہ قرار دینے کے دعوے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بحث حقیقی ہے، لیکن فیصلہ سازی کی سطح پر ایران اب بھی این پی ٹی کا رکن ہے اور اپنے معاہداتی وعدوں کا پابند ہے۔

صیہونی ریاست کی جانب سے صومالی لینڈ میں سفیر بھیجنے پر ردعمل

صیہونی ریاست کی جانب سے صومالی لینڈ میں سفیر بھیجنے کے فیصلے پر بقائی نے کہا کہ ایک اندھا دوسرے اندھے کو راستہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ صیہونی ریاست خود غیر قانونی ہے اور فطری طور پر خطے اور اسلامی ممالک میں اپنے حامی تلاش کرنے اور اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے آغاز ہی سے صومالیہ، عرب لیگ اور افریقی یونین نے احتجاج کیا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ یہ عمل خطے میں امن کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

بقائی نے خبردار کیا کہ صیہونی ریاست کی شرانگیزی کو مزید اختلافات اور انتشار پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے۔

افغانستان کے بارے میں چار ملکی اجلاس

افغانستان کے بارے میں مجوزہ چار ملکی اجلاس سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال کئی اہم مواقع سے فائدہ اٹھایا، جن میں شنگھائی اجلاس اور چار ملکی سربراہی اجلاس کا انعقاد بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور چار ملکی اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف دورے بھی کیے گئے ہیں۔

بقائی نے کہا کہ اکتوبر میں ماسکو فارمیٹ کا اجلاس بھی منعقد ہوا تھا تاکہ اس عمل کو مضبوطی کے ساتھ جاری رکھا جاسکے۔ ایران افغانستان سے متعلق سفارتی اور علاقائی کوششوں کی اہمیت سے غافل نہیں ہے۔

عراقچی کے دورہ ترکمانستان کے مقاصد

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ ترکمانستان کے مقاصد کے بارے میں بقائی نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک ایران کے جغرافیائی و سیاسی اثاثوں میں سے ایک ہیں اور خوش قسمتی سے ان کے ساتھ تعلقات روز بروز بہتر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کے ساتھ ایران کے اچھے تعلقات ہیں اور اس دورے میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

جارحیت میں مدد دینے والے ممالک ایران کے جواب سے محفوظ نہیں رہ سکتے

یورپ تک ممکنہ جنگ کے پھیلاؤ کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ جن لوگوں نے ایران پر جنگ مسلط کی اور جنہوں نے اس جارحیت میں براہ راست حصہ لیا، انہیں ایران سے کسی نرمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی عقل و منطق کے مطابق، جو بھی فریق کسی ملک کے خلاف جارحیت میں کسی بھی طرح شریک ہوتا ہے، وہ ایک غیر قانونی بین الاقوامی اقدام میں حصہ دار تصور ہوگا اور اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

بقائی نے خبردار کیا کہ جو بھی فریق ایران کے خلاف جارحیت میں مدد فراہم کرے گا، اسے ایران کے جوابی اقدام سے محفوظ رہنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha