اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک تحقیقی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنیاد پر ان نقصانات کی تفصیلات پیش کی ہیں جو جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ایران کے حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے 24 فوجی مقامات پر کم از کم 274 عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان نقصانات کی مالیت 15 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی فوجیوں کی رہائش گاہیں اور دفاعی تنصیبات نشانے پر
وال اسٹریٹ جرنل نے یورپی خلائی ایجنسی کی دسیوں ہزار کم ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر، ایران کے فوجی اعداد و شمار اور امریکی حکام کے انٹرویوز کی بنیاد پر یہ تحقیق مرتب کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے حملوں میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں، ریڈار سسٹمز، میزائل دفاعی آلات اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ جولائی میں ہونے والے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں کو زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنانا شروع کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اسے دستیاب ہونے والی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 16 اکتوبر تک ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات کا تازہ ترین تخمینہ 47.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اس رقم میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
پینٹاگون نے فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کا الگ تخمینہ لگایا ہے، جو کم از کم 5 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ تاہم، اخراجات سے واقف ایک دوسرے ذریعے نے کہا ہے کہ یہ رقم بڑھ کر 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اخبار نے یہ بھی بتایا کہ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) نے اس کی جانب سے شناخت کی گئی متاثرہ عمارتوں کی بحالی پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ 4 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا ہے۔ اس رقم میں ان عمارتوں کے اندر موجود فوجی آلات اور نظاموں کی جگہ نئے آلات نصب کرنے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں 119 عمارتیں متاثر
اس تحقیق کے مطابق، 9 اسفند 1404 سے شروع ہونے والی ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں میں امریکی فوج کے 13 مقامات پر کم از کم 119 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اس عرصے میں ایران کے حملوں کا زیادہ تر زور ایران کے قریب واقع امریکی فوجی اڈوں، خصوصاً کویت میں موجود اڈوں پر تھا۔
بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو بھی بڑے پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کو اس اڈے پر تعینات اپنے بیشتر اہلکاروں کو وہاں سے نکالنا پڑا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اپریل کے اوائل تک امریکی فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے مختص دفاعی نظاموں کے 15 سے زائد حصوں میں نقصان کے آثار سامنے آچکے تھے۔ ان میں ریڈار سسٹم، میزائل دفاعی نظام اور مواصلاتی تنصیبات شامل تھیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے 13 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت تقریباً مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہے۔
ایران کے مغربی علاقوں میں واقع امریکی اڈے بھی نشانے پر
7 جولائی کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے حملوں کا رخ ان امریکی فوجی اڈوں کی جانب ہوگیا جو ایران کی سرحدوں سے مغرب کی طرف اور اس سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ ان حملوں میں خاص طور پر اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تحقیق میں جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے اختتام تک ایسے کم از کم 11 الگ الگ حملوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ ان میں سے پانچ حملے اردن میں ہوئے۔
17 جولائی کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ایران کے حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اس اڈے پر فوجیوں کی رہائش کے لیے مختص کم از کم 19 عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیق میں اسی ہفتے کے دوران کئی دیگر امریکی فوجی مقامات پر بھی اسی نوعیت کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔
قطر کے العدید اڈے کی 12 عمارتیں متاثر
قطر کے العدید ایئر بیس کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں بھی کم از کم 12 ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں نقصان پہنچا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا کہ ایران نے بتدریج چھوٹی عمارتوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اخبار کے مطابق، جنگ بندی ختم ہونے کے بعد متاثر ہونے والی عمارتوں کا اوسط رقبہ پہلے مرحلے میں نشانہ بننے والی عمارتوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گیا تھا۔ یہ تبدیلی ایرانی حملوں کی درستگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
امریکی کانگریس کے انتخابات سے پہلے ٹرمپ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی اور جانی نقصانات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ انتخابات آئندہ منگل کو ہونے والے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کے اثرات نے توانائی کی قیمتوں اور امریکی شہریوں کے روزمرہ اخراجات میں بھی اضافہ کیا ہے، جس سے ٹرمپ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب فوجی محاذ آرائی بدستور جاری ہے، حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ بارہا ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے دعوے کرچکی ہے۔
ان حالات نے ری پبلکن پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ جنگ سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار کے حوالے سے امریکی عوام کی حمایت میں کمی آئی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے اکتوبر کے اوائل میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، 65 فیصد امریکی شہریوں نے ایران کے خلاف جنگ سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار سے اختلاف کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ