31 اکتوبر 2026 - 09:58
ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پُرامید، تاہم محتاط

پاکستانی فوج نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد کی ثالثی کوششوں پر محتاط امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل میں مثبت پیش رفت کے آثار موجود ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے دورۂ تہران کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو ایران کے خلاف جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا تازہ ترین دورہ پیر کے روز سعودی عرب اور ترکیہ کے حکام کے ہمراہ ہوا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان دوروں کو ثالثی کی کوششوں میں مثبت پیش رفت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا: ’’اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی تو فوج کے سربراہ دو مرتبہ تہران کیوں جاتے؟ لہٰذا یقیناً مثبت اشارے موجود ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف وہی ہے جسے وہ ہمیشہ محتاط امید سے تعبیر کرتا ہے۔

انہوں نے کسی ملک یا فریق کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض بااثر عناصر اور تخریب کار قوتیں ایسی ہیں جو اس تنازع کو جاری رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتی ہیں۔

راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے اس بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا امریکہ نے پاکستانی وفد کے حالیہ دورۂ تہران کی حمایت کی تھی یا نہیں۔

سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے پیر کے روز عاصم منیر کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے کی اہمیت ایسے وقت میں بڑھ گئی ہے جب ایران کے خلاف جنگ نے خطے کے اتحادوں اور سکیورٹی کی صورتحال کو نئی شکل دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے پھیلاؤ اور ایک وسیع جنگ چھڑنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاہدے پر عمل درآمد کا تعلق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے علاقائی طاقتوں کی کوششوں سے بھی ہے۔

پیر کے روز تہران میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ خطے کی سلامتی کی ذمہ داری خود علاقائی ممالک پر ہونی چاہیے اور اس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

کیا ایران بھی دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے؟

پاکستانی فوج کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کو بھی اس دفاعی معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شرائط نئے ممالک کی شمولیت پر پابندی عائد نہیں کرتیں۔

احمد شریف چوہدری نے کہا: ’’اگر کوئی ایسا فریق موجود ہے جو مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے معاملے میں ہمارے ساتھ مشترکہ مؤقف رکھتا ہے تو اس کی شمولیت میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ سب کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس بارے میں فیصلہ مستقبل کے حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی رائے پر منحصر ہوگا۔

انہوں نے سعودی عرب اور مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: ہم یمن کے تنازع میں فریق نہیں ہیں۔ یہ یمن کا داخلی تنازع ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے نتیجے میں سعودی عرب اور یمن کی مسلح افواج کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha